Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
109 - 1087
 بلکہ جب بھی کسی سے کلام کیا تو یہ پسند کیا کہ اسے سمجھنے کی توفیق ملے اور سیدھے راستے پر رہنے کے لئے اس کی مدد ہو۔ نیز میں نے کبھی بھی کسی سے گفتگو کرتے وقت اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری زبان سے حق ظاہر کرے یا اس کی زبان سے۔(۱) جب میں کسی کے سامنے دلیل کے ساتھ حق بیان کرتا ہوں اور وہ قبول کرلیتا ہے تو میں اس سے خوش ہوتا اور اس سے محبت کرتا ہوں اور جو میرے سامنے حق سے انکار کردے اور دلیل کو نہ مانے تو وہ میری نظروں سے گرجاتا ہے اور میں اسے چھوڑ دیتا ہوں ۔(۲)
	یہ علامات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فقہ اور مناظرہ میں رضائے الٰہی کے طالب تھے۔ اب تم دیکھو کہ ان پانچ خصلتوں میں سے لوگ صرف اس ایک خصلت میں ان کی متابعت وپیروی کے دعویدار ہیں پھر اس میں بھی وہ ان سے کتنے مختلف ہیں ۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا ابوثور رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کہاکہ ’’ میں نے اور دیکھنے والوں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کی مثل کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘(۳)
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل نے فرمایا کہ ’’ 40سال سے میں نے جو بھی نماز پڑھی اس میں حضرت سیِّدُناامام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے لئے ضرور دعا کی۔‘‘(۴)
	پس تم دعا کرنے والے کے انصاف اور حضرت سیِّدُناامام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے درَجہ کو ملاحظہ کرو پھر اِس زمانے کے علما کو دیکھوکہ ان میں کس طرح بُغض وعناد پایا جاتا ہے تاکہ تم جان جاؤ کہ یہ لوگ ان بزرگوں کی اقتدا وپیروی کرنے کے دعوے میں جھوٹے ہیں ۔ 
دُنیاکے لئے آفتاب اور لوگوں کے لئے عافیت:
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کے صاحبزادے نے ان سے پوچھا: ’’یہ شافعی کون ہیں جن ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…الفقیہ والمتفقہ، باب ادب الجدال، الجزء السابع، الرقم:۶۷۱، ج۲، ص۴۹۔ 
2…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الرقم:۱۳۳۳۷، ج۹، ص۱۲۵۔ 
تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۸۳۔ 
3…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۳۴۔ 
4…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۴۶۔