آدمی عالم کب بنتاہے؟
حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی سے پوچھا گیا کہ آدمی عالم کب بنتا ہے؟ فرمایا: جب وہ علمِ دین اچھے طریقے سے حاصل کرکے دوسروں کو سکھائے پھر دوسرے علوم کی طرف متوجہ ہو اور جو علم اس کے پاس نہیں اس میں غور وفکر کرے تب وہ عالم ہوگا۔ حکیم جالینوس(۱)سے کسی نے پوچھا کہ ’’تم ایک بیماری کے لئے زیادہ دوائیں کیوں تجویز کرتے ہو؟‘‘ تو حکیم صاحب نے جواب دیا: ’’ان میں سے مقصود ایک ہی ہے لیکن اس ایک کے ساتھ دوسری دوائیں اس کی حرارت کو ختم کرنے کے لئے ہوتی ہیں کیونکہ اگر ایک ہی دوائی دے دی جائے تو وہ ہلاک کر دے گی۔ ‘‘
یہ اور اس طرح کے بے شمار حکمت بھرے اقوال اس بات پر دلیل ہیں کہ علومِ آخرت اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کا مقام ومرتبہ بہت بلند تھا۔
{4}…علمِ فقہ سے مقصود:
حضرت سیِّدُنا امامِ شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فقہ اور مناظرہ میں رِضائے الٰہی کے ہی طالب تھے۔ اس پر کئی روایات دلالت کرتی ہیں ۔ چنانچِہ، مروی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس علم سے نفع اٹھائیں لیکن اس میں سے میری طرف کچھ منسوب نہ کریں ۔‘‘(۲)
پس تم غور کرو کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو علم اور علم کے سبب نام وری کی آفت پر کیسی آگاہی تھی۔ ان کادل اس طرف توجہ کرنے سے کیسا پاک تھا۔ محض رِضائے الٰہی ان کے پیش نظرہوتی تھی۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہفرماتے ہیں کہ ’’میں نے جب بھی کسی سے مناظرہ کیا تو یہ پسند نہیں کیا کہ وہ غلطی کرے(۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جالینوس کا اصلی نام گلاڈیسن گیلن تھا۔ یہ ہمارے پیارے آقا کی بعثت سے بھی پہلے گزرا ہے۔ 131ء میں پیدا ہوا 201ء میں فوت ہوا۔ قدیم یونان کا نہایت ہی ماہر طبیب تھا اور فن طب میں تمام اطبائے یونان کو اس نے پیچھے چھوڑ دیا۔ یونان کی طبابت شہرہ آفاق ہے۔ یہ شخص اتنا ماہر طبیب مانا جاتا تھا کہ آج اٹھارہ سوسال کے بعد بھی اس کا دنیا میں نام ہے۔ (فیضان سنت،ج۱،ص۵۸۲)
2…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۳۴۲، ج۹، ص۱۲۶۔ تاریخ مدینۃدمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱،ج۵۱، ص۳۶۵۔
3…صحیح ابن حبان، کتاب الصلاۃ، باب فرض متابعۃ الامام، تحت الحدیث: ۲۱۲۲،ج۳، ص۲۸۴۔