Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
107 - 1087
دوست اور دشمن ہوتا ہے اورجب معاملہ ایسا ہے تو پھر تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبرداروں کے ساتھ رہو۔‘‘(۱)
	 منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدالقاہر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز نیک اور پرہیزگار شخص تھے۔ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی سے تقویٰ کے بارے میں مسائل پوچھا کرتے تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے ان پر خاص توجہ فرماتے تھے۔ ایک دن انہوں نے پوچھا کہ ’’ امتحان، صبر اور تمکین(مرتبہ و عزت) میں سے کیا افضل ہے؟‘‘ توحضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے جواب دیا کہ ’’تمکین انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا درَجہ ہے لیکن تمکین سے پہلے امتحان ہوتا ہے، امتحان پر صبر ہو تو پھر تمکین کا درَجہ حاصل ہوتا ہے۔ تم نے دیکھا نہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے پہلے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم، حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ اور حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا امتحان لیا پھر انہیں تمکین سے نوازا، حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَامکا امتحان لیا پھر انہیں تمکین عطا فرمائی اورسلطنت سے نوازا۔‘‘  (۲) تمکین تمام درَجوں میں افضل درَجہ ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرْضِۚ (پ۱۳،یوسف:۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی۔
	اور حضر ت سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بڑے امتحان کے بعد تمکین (مرتبہ و عزت) سے نوازا۔ چنانچِہ، اللّٰہ رَبُّالْعِبَاد عَزَّوَجَلَّکا ارشاد ہے:
وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثْلَہُمۡ مَّعَہُمْ (پ۱۷، الانبیاء:۸۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کئے۔
	حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کا یہ کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قرآنِ پاک کے اسرار میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی گہری نظر تھی اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتک پہنچنے والے انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے مقامات ومراتب کا علم تھا۔ ان سب باتوں کا تعلق علمِ آخرت سے ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۳۳۴، ج۹، ص۱۲۴۔ 
2…ذم الھوی لابن الجوزی، الباب التاسع والاربعون فی ذکر ادویۃ العشق، الرقم:۱۲۶۱، ص۴۳۳، باختصارٍ۔