Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
106 - 1087
	حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے یہ خوفِ خدا اور زہد وتقویٰ بیع سلم اور اجارہ کے مسائل یا اس کے سوا دوسرے ابوابِ فقہ کے مسائل سے حاصل نہیں کیاتھا بلکہ یہ سب کچھ علومِ آخرت سے حاصل کیا تھا اور علومِ آخرت قرآن وسنت سے مستفاد ہوتے ہیں کیونکہ تمام اگلوں پچھلوں کی حکمتیں قرآن وسنت میں موجود ہیں ۔
{3}…اسرارِ قلب اور علومِ آخرت کے عالم:
	 حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے حکمت بھرے ارشادات وملفوظات سے واضح ہوتاہے کہ آپ اسرارِ قلب اور علومِ آخرت کے کیسے زبر دست عالم تھے۔ چنانچِہ، منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی سے ریا کے بارے میں پوچھا گیا تو بلاتوقف جواب دیا کہ ’’ریا ایک فتنہ ہے جسے خواہشِ نفس نے علما کے دلوں کی آنکھوں کے سامنے باندھ دیا انہوں نے برائی پسند نفس کے ساتھ اس میں دلچسپی لی تو ان کے اعمال اَکارت ہوگئے۔‘‘  (۱)
خودپسندی میں مبتلا کونصیحت:
	مزید فرماتے ہیں کہ ’’جب تجھے اپنے عمل میں خود پسندی کا خوف ہو تو اس بات کو پیشِ نظر رکھ کہ تو کس کی رِضا کا طالب ہے، کس ثواب کی خواہش رکھتا ہے، کس سزا وعذاب سے ڈرتا ہے، کس نعمت پر شکر کرتا ہے اور کون سی مصیبت کو یاد کرتا ہے۔ جب تو ان میں سے کسی ایک خصلت میں غور وفکر کرے گا تو تجھے اپنا عمل چھوٹا لگے گا۔‘‘  (۲)
	غور کرو کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کس انداز سے ریا کی حقیقت اور خود پسندی کے علاج کو آشکار کیا اور یہ دونوں دل کی بہت بڑی آفتیں ہیں ۔
علم کسے نفع نہیں دیتا؟
	حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں کہ ’’جو اپنے نفس کی نگہبانی نہیں کرتا اس کا علم اسے نفع نہیں دیتا۔(۳)جو علم کے مطابق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرے گا اس کا پوشیدہ علم اسے نفع دے گا۔ہر ایک کا کوئی نہ کوئی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی، ج۵۱، ص۳۳۴۔ 
2…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۴۱۳۔ 
3…الفقیہ والمتفقہ، ذکر احادیث واخبار شتی…الخ، الجزء الاوّل، الرقم:۱۳۹، ج۱، ص۱۵۱۔