عطا فرما اور اپنے کرم سے میرے گناہ معاف فرما۔‘‘ (۱)
پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ تشریف لے گئے اور ہم بھی چلے گئے۔ جب میں بغداد آیا اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ عراق میں تھے۔ میں ایک مرتبہ دریا کے کنارے بیٹھا وضو کررہا تھا کہ قریب سے گزرتے ہوئے ایک شخص نے کہا: ’’بیٹا! وضو اچھے طریقے سے کرو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں تمہارے ساتھ اچھا معاملہ فرمائے گا۔‘‘ میں نے اس طرف توجُّہ کی تو وہ ایک بارعب شخص تھا جس کے پیچھے کئی لوگ تھے۔ میں جلدی سے وضو کرکے ان کے پیچھے چل دیا۔ انہوں نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’کیا تمہیں کوئی کام ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’جی ہاں ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جو کچھ آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی کچھ سکھا دیجئے۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا: ’’جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تصدیق کرے گا نجات پاجائے گا، جو اپنے دین کے معاملے میں خوف زدہ رہے گا ہلاکت وبربادی سے محفوظ رہے گااور جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرے گا کل بروزِ قیامت اس کی آنکھیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والے اجر وثواب کو دیکھ کر ٹھنڈی ہوں گی۔‘‘ پھر فرمایا:’’ کیا میں تمہیں مزید نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے کہا: ’’ جی بتائیے!‘‘ فرمایا: ’’جس میں تین خصلتیں پائی گئیں اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا:(۱)… نیکی کا حکم دینا اور اس پر عمل کرنا (۲)…برائی سے منع کرنا اور خود بھی باز رہنا اور (۳)…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود کی محافظت کرنا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’کیا میں تمہیں مزید کچھ بتاؤں ؟‘‘ میں نے کہا: ’’کیوں نہیں ۔‘‘ فرمایا: ’’دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، آخرت میں رغبت رکھو اور ہر حال میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو سچا جانو نجات پانے والوں میں ہوجاؤگے ۔‘‘ یہ کہہ کروہ تشریف لے گئے۔ میں نے پوچھا: ’’یہ کون تھے؟ ‘‘تو لوگوں نے بتایا کہ ’’یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی تھے۔‘‘ (۲) تم ان کے بے ہوش ہوکر گرنے پر غور کرو پھر ان کے وعظ کے بارے میں سوچو کہ کس طرح یہ چیز ان کے زہد اور خوفِ خدا رکھنے پر دلالت کر تی ہے۔ خوفِ خدا اور زہدمعرفت ِ الٰہی کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔ کیونکہ قراٰنِ پاک میں ارشادرب العباد ہے:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ (پ۲۲، فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۳۶۔
2…تہذیب الاسماء واللغات، الامام الشافعی، ج۱، ص۷۶۔۷۷، باختصارٍ۔