زمانے کا افضل شخص:
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ زہد میں کتنے مضبوط تھے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کس قدر خوف رکھتے تھے اور آخرت کی تیاری میں کس طرح مشغول رہتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے رقت ِقلبی کے متعلق ایک حدیث بیان کی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بے ہوش ہو گئے۔ کسی نے کہا: ’’وفات پا گئے ہیں ۔‘‘ توحضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ اگر وفات پا گئے ہیں تو اس زمانے کے افضل شخص کاوصال ہوگیا۔‘‘ (۱)
کامل الایمان ہونے کی علامت:
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن محمد بلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور عمر بن نباتہ عابدین وزاہدین کا تذکرہ کررہے تھے کہ عمر نے کہا: میں نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی سے بڑا فصیح اور پرہیزگارشخص نہیں دیکھا کیونکہ ایک بار میں ، حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی اور حارث بن لبید صفا (پہاڑی) کی طرف گئے حارث صالح مری کے شاگرد تھے۔خوش کن آواز کے مالک تھے ۔ انہوں نے قرآنِ پاک کی تلاوت شروع کی جب یہ آیاتِ مبارَکہ تلاوت کیں :
ہٰذَا یَوْمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾ وَ لَا یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾ (پ۲۹، المرسلٰت:۳۵،۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے، اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں ۔
تو میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کا رنگ تبدیل ہو گیا، بدن کانپنے لگا، شدید بے قرار ہوگئے اور بیہوش ہوکر گرگئے۔ ہوش آنے پر دعا فرمانے لگے کہ ’’ اے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! میں جھوٹوں کے مقام اور غافلوں کے اعراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ اے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! اہلِ معرفت کے دل تیری بارگاہ میں جھک گئے، تیرے آگے طالبین کی گردنیں خم ہوگئیں ۔ اے میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنا جود وکرم عطا فرما، اپنی شانِ ستاری سے مجھے عظمت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…معرفۃ السنن والاثار، مقدمۃ المؤلف، باب شہادۃ الائمۃ للشافعی، ج۱، ص۱۱۶۔ حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الرقم:۱۳۲۲۲، ج۹، ص۱۰۲۔