میں چلتے ہوں گے۔ (۱)
{2}…زہدوتقویٰ:
حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’جو یہ دعویٰ کرے کہ اس نے اپنے دل میں دنیا اور خالقِ دنیا کی محبت کو جمع کر لیا ہے بیشک وہ جھوٹا ہے۔‘‘ (۲)
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کی سخاوت:
حضرت سیِّدُنا حمیدی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی بعض حکام کے ساتھ یمن تشریف لے گئے پھر وہاں سے 10 ہزار درہم لئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، مکہ مکرمہزَادَہَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے باہر ہی ایک مقام پران کے لئے ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ لوگ ملاقات کے لئے آنے لگے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹے جب تک وہ تمام دراہم تقسیم نہ کر دئیے۔ (۳) ایک مرتبہ حمام سے نکلے تو اس کے مالک کو کثیر مال عطا فرمایا۔ (۴) ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا کوڑا گرگیا، ایک شخص نے اٹھاکر دیا تو اسے اس کے بدلے میں 50دینار عطا فرما دئیے۔ (۵)
زہد کی حقیقت وبنیاد:
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی سخاوت بہت مشہور ہے بیان کرنے کی حاجت نہیں اور زہد کی بنیاد سخاوت ہے اس لئے کہ جو جس چیز سے محبت رکھتا ہے اسے روک لیتا ہے اور مال کو وہی جدا کرتا ہے جس کی نظر میں دنیا کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ یہی زہد کی حقیقت ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۴۹۲، ج۹، ص۱۵۵۔
2…فیض القدیر،حرف الدال، فصل فی المحلی بأل…الخ، تحت الحدیث:۴۲۶۹، ج۳، ص۷۲۷۔
3…شعب الایمان للبیھقی، باب فی الجود والسخاء، الحدیث:۱۰۹۶۰، ج۷، ص۴۵۲۔
حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۴۰۶، ج۹، ص۱۳۸۔ 4…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۴۰۱۔
5…شعب الایمان للبیھقی،باب فی الجودوالسخاء،الرقم:۱۰۹۶۱، ج۷، ص۴۵۲،بتغیرٍ’’تسعۃ دنانیراوسبعۃ‘‘۔
تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۹۹۔