Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
102 - 1087
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘ فرمایا: ’’پہلے میں یہ جان لوں کہ میرے جواب دینے میں فضیلت ہے یا خاموش رہنے میں ۔‘‘  (۱)
	دیکھو! آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہزبان کی کیسی نگہبانی فرماتے تھے۔ حالانکہ فقہا پر زبان کا تسلط تمام اعضاء سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ سب سے زیادہ بے قابو اور نافرمان ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فضل وثواب کے حصول کے لئے ہی کلام کرتے تھے۔
کانوں اور زبان کا قفل مدینہ(۲):
	حضرت سیِّدُنا احمد بن یحییٰ بن وزیرعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی قندیلوں کے بازار سے گزرے، ہم بھی پیچھے ہو لئے، اچانک دیکھا کہ ایک شخص کسی عالم سے بیہودہ باتیں کررہا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’جس طرح اپنی زبانوں کو فحش گوئی سے بچاتے ہو اسی طرح کانوں کو بھی فحش باتیں سننے سے بچاؤ کیونکہ سننے والا کہنے والے کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔     بے وقوف جب اپنے برتن میں کوئی بدترین چیز دیکھتا ہے تو اسے تمہارے برتنوں میں ڈالنا چاہتا ہے، اگر اس کی بات کو لوٹا دیا جائے تو لوٹانے والا خوش بخت ہے جیسے وہ بات کہنے والا بد بخت ہے۔‘‘  (۳)
 	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دانا(عقل مند) نے کسی دانا کو لکھا کہ تمہیں علم دیا گیا ہے تو اپنے علم کو گناہوں کی ظلمت سے آلودہ نہ کرنا ورنہ تم اس دن اندھیرے میں کھڑے رہو گے جس دن صاحب ِ علم اپنے علم کے نور 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…حاشیۃ اعانۃ الطالبین، خطبۃ المؤلف، ج۱، ص۲۸۔ 
2…’’قفلِ مدینہ‘‘ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں بولی جانے والی ایک اصطلاح ہے کسی بھی عضو کو گناہوں اور فضولیات سے بچانے کو قفلِ مدینہ لگانا کہتے ہیں ۔ مثلاً فضول گوئی سے جو پرہیز کرتا ہے اور خاموشی کی عادت ڈالنے کے لئے حسب ِضرورت اشاروں سے یا لکھ کر گفتگو کرتا ہے اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس نے زبان کا قفلِ مدینہ لگایا ہے۔  
دوزخ کی کہاں تاب ہے کمزور بدن میں 		 ہرعضو کا عطاّرؔ لگا قفلِ مدینہ
 3…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۳۶۳، ج۹، ص۱۳۰۔تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ابراہیم بن احمد بن اسحاق:۶۰۲۵، ج۵۱، ص۱۸۳۔