Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
101 - 1087
تو اس سے پناہ مانگتے پھر اپنے اور تمام مسلمانوں کے لئے اس سے نجات مانگتے تھے۔ (۱)گویا ان کے لئے خوف ورجا کو اکٹھا کردیا گیا تھا۔ پس تم دیکھو کہ50آیات پر اقتصار کرنا حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِیکے قرآنِ عظیم کے اسرار پر گہری نظر اور اس میں غور وفکر کرنے پر دلیل ہے۔
شکم سیری کی آفات:
	حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’میں نے 16سال سے سیر ہوکر کھانانہیں کھایا کیونکہ شکم سیری بدن کو بھاری اور دل کو سخت کر دیتی، عقل کو زائل کرتی ، نیند لاتی اور عبادت میں کمزوری کا باعث ہے (۲)۔ (۳)
	 تم غور کرو کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کیسی حکمت کے ساتھ شکم سیری کی آفات بیان فرمائیں ۔ پھر عبادت میں ان کی کوشش کو دیکھو کہ عبادت کی وجْہ سے شکم سیری سے کناراکش ہوگئے کیونکہ عبادت کی بنیاد کم کھانے پر ہے۔
عظمت ِالٰہی:
	مزید فرماتے ہیں کہ ’’میں نے کبھی بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم نہیں کھائی، نہ سچی نہ جھوٹی۔‘‘  (۴)
	یہ قول آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حددرجہ تعظیم وتوقیر بجا لانے پر دلالت کرتاہے۔ نیز اس بات پر دلیل ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ عظمت ِ الٰہی کا علم رکھتے تھے۔
زبان کی حفاظت:
	ایک بار حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِیسے کچھ پوچھا گیا تو خاموش رہے۔ کسی نے عرض کی: ’’حضور! 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…معرفۃ السنن والاثار، مقدمۃ المؤلف، باب مایستدل بہ علی اجتہادہ فی طاعۃ ربہ، ج۱، ص۱۱۵۔ 
تاریخ بغداد، محمد بن ادریس الشافعی:۴۵۴، ج۲، ص۶۱۔ 
2…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافی، الحدیث:۱۳۳۸۶، ج۹، ص۱۳۵۔
تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۹۴۔
3…شکم سیری کی آفات اور بھوک کے فضائل کی تفصیلی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادار مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صفحات پر مشتمل کتاب ’’فیضانِ سنت‘‘ جلد اول کے باب ’’پیٹ کا قفل مدینہ‘‘ کامطالعہ کیجئے۔
4…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافی، الحدیث:۱۳۳۹۱، ج۹، ص۱۳۶۔