رضائے الٰہی چاہنے والا تھااور موجودہ زمانے کے فقہا نے ان پانچ خصلتوں میں سے صرف ایک خصلت یعنی فقہ کی جزئیات میں محنت ومبالغہ میں ان کی پیروی کی ہے۔ کیونکہ باقی چارخصلتیں صرف آخرت کے لئے نفع مند ہیں اور یہ ایک خصلت آخرت کے ساتھ ساتھ دنیاکے لئے بھی نفع مند ہے ۔ اگر اس سے آخرت کی نیت کی جائے تو دنیوی نفع کم ہوجاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے فقہا نے اس خصلت کے لئے خوب کوشش کی اور اس کے سبب ان ائمہ دین کے مشابہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ ہائے افسوس! ملائکہ کو لوہاروں پر قیاس کیا گیا۔ اب مذکورہ پانچوں فقہا کے وہ احوال بیان کئے جاتے ہیں جوچار خصلتوں پر دلالت کرتے اور فقہ میں ان کا مقام ومرتبہ سب کو معلوم ہے۔
سیِّدُنااِمام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَا فِیکے فضائل ومناقب
{1}…عبادت و ریاضت:
حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نے رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا: ایک تہائی علم کے لئے، ایک تہائی عبادت کے لئے اور ایک تہائی آرام کے لئے۔ (۱)
حضرت سیِّدُنا ربیع عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی ماہِ رمضان میں 60قرآنِ پاک ختم کرتے تھے اور سب نماز میں ختم کرتے۔ (۲)آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے ایک شاگرد بویطی ماہِ رمضان میں ہر دن ایک قرآنِ پاک پڑھا کرتے تھے۔ (۳)
تمام مسلمانوں کے لئے رحمت و نجات کی دعا:
حضرت سیِّدُنا حسن کرابیسی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کے ساتھ کئی راتیں گزاری ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ تقریباً ایک تہائی رات نماز پڑھتے تھے اور میں نے انہیں 50 سے زیادہ آیات پڑھتے نہیں دیکھا، اگر زیادہ پڑھتے تو 100پڑھ لیتے اور کسی بھی آیت ِ رحمت پر پہنچتے تو بارگاہِ الٰہی میں اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے رحمت کی دعا مانگتے اور جب بھی کوئی عذاب(کے تذکرے) والی آیت پڑھتے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۴۳۱، ج۹، ص۱۴۳۔
2…حلیۃ الاولیاء، الامام الشافعی، الحدیث:۱۳۴۲۶، ج۹، ص۱۴۲۔
3…تاریخ دمشق لابن عساکر، محمد بن ادریس الشافعی:۶۰۷۱، ج۵۱، ص۳۹۳۔