Brailvi Books

حُسینی دُولھا
8 - 16
کر کے حملہ کریں اور ہر طرف سے یکبارگی ٹوٹ پڑیں چُنانچِہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب حُسینی دولھا زخموں سے چور ہو کر زمین پر تشریف لائے تو سیاہ دِلانِ بد باطِن نے ان کا سر کاٹ کر حُسینی لشکر کی طرف اُچھال دیا ۔ ماں اپنے لختِ جگر کے سر کو اپنے منہ سے ملتی تھی اور کہتی تھی: اے بیٹا، میرے بہادر بیٹا! اب تیری ماں تجھ سے راضی ہوئی۔ پھر وہ سر اسکی دُلہن کی گود میں لا کر رکھ دیا۔ دُلہن نے ایک جُھر جُھر ی لی اور اُسی وقت پروانہ کی طرف اُس شمع جمال پر قربان ہو گئی اور اس کی روح حُسینی دولھا سے ہم آغوش ہوگئی۔
سُر خروئی اسے کہتے ہیں کہ راہِ حق میں
سر  کے  دینے  میں  ذرا  تو  نے  تَأَمُّل  نہ کیا
اَسکَنَکُمَا اللہُ فَرَ ادِیْسَ الجِنَانِ وَ اَغْرَقَکُمَا فِی بِحَارِ الرَّحمَۃِ ِوَالرِّضوَانِ(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ  آپ کو فردوس کے باغوں میں جگہ عنایت فرمائے اور رحمت ورضوان کے دریاؤں میں غریق کرے) (مُلَخَّص ازسوانحِ کربلاص۱۴۱تا ۱۴۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے اہلبیت اطہار عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی محبت اور جذبۂ شہادت بھی کیسی عظیم نعمتیں ہیں صرف سترہ دن کا دولہا میدان کارزار میں دشمنوں کے لشکر جرار سے تن تنہا ٹکرا گیا اور جام شہادت نوش کرکے جنت کا حقدار ہو گیا۔ حسینی دولہا کی والدۂ