کا سر اڑایا ۔ گِردو پیش خُود سروں (یعنی سرکشوں ) کے سروں کا انبار لگا دیا۔ ناکسوں (یعنی نا اہلوں ) کے تن خاک و خون میں تڑپتے نظر آنے لگے۔ یکبار گی گھوڑے کی باگ مَوڑدی اور ماں کے پاس آ کر عرض کی کہ اے مادرِ مُشفِقہ! تُو مجھ سے اب تو راضی ہوئی! اور دُلہن کے پاس پہنچے جو بے قرار رو رہی تھی اور اس کو صَبر کی تلقین کی ۔اتنے میں اَعداء (یعنی دشمنوں ) کی طرف سے آواز آئی: ھَل مِنْ مُّبَارِز؟ یعنی کوئی ہے مقابلہ پر آنے والا ؟ سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑے پر سَوار ہو کر میدان کی طرف روانہ ہوئے ۔ نئی دُلہن ٹکٹکی باندھے اُن کو جاتا دیکھ رہی ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کے دریا بہا رہی ہے۔
حُسینی دُولھا شیرژِیاں (یعنی غضبناک شیر) کی طرح تیغِ آبدار و نیزۂ جاں شِکار لے کر معرکۂ کا ر زار میں صاعِقہ وار آ پہنچا۔اس وقت میدان میں اَعداء کی طرف سے ایک مشہور بہادر اور نامدار سَوار حَکَم بن طفیل جو غرورِ نَبرَد آزمائی میں سَرشار تھا تکبُّر سے بَل کھاتا ہوا لپکا سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک ہی حملے میں اس کو نیزہ پر اٹھا کر اس طرح زمین پر دے مارا کہ ہڈّیاں چکنا چُور ہو گئیں اور دونوں لشکروں میں شور مچ گیا اور مُبارِزوں میں ہمّتِ مقابلہ نہ رہی۔سیِّدُنا وَہبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے قلبِ دشمن پر پہنچے ۔ جو مُبارِز سامنے آتا اس کو نیزہ کی نوک پر اٹھا کر خاک پر پٹخ دیتے ۔ یہاں تک کہ نیزہ پارہ پارہ ہو گیا۔ تلوار میان سے نکالی اور تیغ زَنوں کی گردنیں اُڑا کر خاک میں ملا دیں۔ جب اَعداء اس جنگ سے تنگ آ گئے تو عَمرو بن سعد نے حکم دیا کہ سپاہی اس نوجوان کے گرد ہُجوم