Brailvi Books

حُسینی دُولھا
6 - 16
یہ ہے کہ عرصہ گاہ محشر میں میری ’’ ان‘‘ سے جُدائی نہ ہو، اور دنیا میں مجھ غریب کو آپ کے اہلبیت اپنی کنیزوں میں رکھیں ، اور میری تمام عمر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پاک بیبیوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی خدمت میں گزر جائے۔
	حضرت امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے یہ تمام عہدو پَیماں ہو گئے اور سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی عرض کر دی کہ یا امامِ عا لی مقام! اگر حُضُور تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت سے مجھے جنّت ملی تو میں عرض کروں گا : یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ بی بی میرے ساتھ رہے ۔ حُسینی دُولھا سیِّدُنا وَہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے اجازت لے کر میدان میں چل دیئے۔ یہ دیکھ کر لشکرِ اَعداء پر لرزہ طاری ہو گیا کہ گھوڑے پر ایک ماہ رُو شہسوار اَجَلِ ناگہانی کی طرح لشکر کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے ہاتھ میں نیزہ ہے دَوش پر سِپَرہے اور دل ہِلا دینے والی آواز کے ساتھ یہ رَجز پڑھتا آ رہا ہے:   ؎
اَمِیْرٌ حُسَیْنٌ وَ نِعمَ الْاَ مِیر
لَہٗ لَمْعَۃٌ کَا لسِّرَاجِ الْمُنِیر
(یعنی حضرتِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ امیر ہیں اور بَہُت ہی اچّھے امیر۔ ان کی چمک دمک روشن چَراغ کی طرح ہے۔)
	برقِ خاطف (یعنی اچک لینے والی بجلی)کی طرح میدان میں پہنچے ، کوہ پیکر گھوڑے پر سِپہ گری کے فُنُون دکھائے، صَفِ اَعداء سے مُبارِز طلب فرمایا ، جو سامنے آیا تلوار سے اُس