Brailvi Books

حُسینی دُولھا
15 - 16
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
راحتِ دنیا کے منہ پرٹھوکرماردی
	اُس شامی نوجوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عزم و استِقلال اوراس کی ایمان پر استِقامت  مرحبا! ذراغور تو فرمایئے! نگاہوں کے سامنے دو پیارے پیارے بھائی جامِ شہادت نوش کر گئے مگر اس کے پائے ثَبات کو ذرا بھی لغزِش نہیں آئی ،نہ دھمکیاں ڈرا سکیں نہ ہی قید و بند کی صُعُوبتیں اپنے عزم سے ہٹاسکیں۔ حق و صداقت کا حامی مصیبتوں کی کالی کالی گھٹاؤں سے بالکل نہ گھبرایا، طوفانِ بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثَبات میں جُنبش تک نہ ہوئی، خداو مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شیدائی دنیا کی آفتوں کو بالکل خاطر میں نہ لایا۔ بلکہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں پہنچنے والی ہر مصیبت کا اس نے خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کیا، نیز دنیا کے مال اور حُسن وجمال کالالچ بھی اس کے عزائم سے اس کو نہ ہٹا سکا اور اس مردِ غازی نے اسلام کی خاطر ہر طرح کی راحتِ دنیا کے منہ پر ٹھوکر مار دی۔    ؎
یہ غازی یہ تیرے پُراَسرار بندے		جنہیں تو نے بَخشاہے ذوقِ خُدائی
ہے ٹھوکر سے دو نِیم صحرا و دریا		سِمَٹ کر پہاڑ ان کی ہیبَت سے رائی
دو عالَم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو		عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومِن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشوَر کُشائی
آخِر کا ر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رہائی کے بھی خوب اَسباب فرمائے۔ وہ رومی لڑکی مسلمان ہو گئی اور