Brailvi Books

حُسینی دُولھا
14 - 16
سَیُعطِی الصَّادِقینَ بِفَضلِ صِدقٍ
نَجَاۃً  فی الحَیَاۃِ  وَ  فِی المَمَاتِ
ترجمہ: عنقریباللہ عَزَّوَجَلَّ سچوں کو سچ کی برکت سے زندگی اور موت میں نجات عطا فرمائے گا۔( عُیُونُ الْحکایات ص ۱۹۷،۱۹۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ان تینوں شامی بھائیوں نے ایمان پر استقامت کا کیسازبردست مظاہرہ کیا، ان کے دلوں میں ایمان کس قدرراسخ ہو چکا تھا، یہ عشق کے صرف بلندبانگ دعوے کرنے والے نہیں حقیقی معنیٰ میں مخلص عاشقانِ رسول تھے۔ دونوں بھائی جامِ شہادت نوش کر کے جنت الفردوس کی سرمدی نعمتوں کے حقدار بن گئے اور تیسرے نے روم کی حسینہ کی طرف دیکھا تک نہیں اور دن رات رب عَزَّوَجَلَّکی عبادت میں مصروف رہا اور یوں جو بہ نیت شکار آئی تھی خود اسیر بن کررہ گئی ۔ اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشکلات میں سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے مدد چاہنا اور یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! پکارنااہلِ حق کاقدیم طریقہ رہا ہے۔
یا رسول اللہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے
جس نے یہ نعرہ لگایا اُس کا بیڑا پار ہے