کہ جب مہلت ختم ہونے میں تین دن رہ گئے تو وہ لڑکی بے تابانہ اس نوجوان سے عرض گزار ہوئی:میں تمہارے دین میں داخِل ہونا چاہتی ہوں اور یوں وہ مسلمان ہو گئی۔ پھر انہوں نے یہاں سے فرار ہونے کی ترکیب بنائی وہ لڑکی اصطبل سے دو گھوڑے لائی اور اس پر سوار ہو کر یہ اسلامی سلطنت کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایک رات انہوں نے اپنے پیچھے گھو ڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی ۔ لڑکی سمجھی کہ رومی سپاہی ان کا پیچھا کرتے ہوئے قریب آ پہنچے ہیں۔اس لڑکی نے نوجوان سے کہا: آپ اس ربّ عَزَّوَجَلَّ سے جس پر میں ایمان لاچکی ہوں دُعا کیجئے کہ وہ ہمیں ہمارے دشمنوں سے نجات عطا فرمائے، نوجوان نے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ اس کے وہ دونوں بھائی جو شہید ہو چکے تھے ،فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ ان گھوڑوں پر سوار ہیں۔ اس نے ان کو سلام کیا پھر ان سے ان کے احوال دریافت کئے وہ دونوں کہنے لگے: ہم ایک ہی غوطے میں جنت الفردوس میں پہنچ گئے تھے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں تمہارے پاس بھیجا ہے۔ اس کے بعد وہ لوٹ گئے اور وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ ملک شام پہنچا اور اس کے ساتھ شادی کر کے وہیں رہنے لگا۔ ان تین بہادرشامی بھائیوں کا قصہ ملک شام میں بہت مشہور ہوا اور ان کی شان میں قصیدے کہے گئے جن کا ایک شعر یہ ہے : ؎