تجھے اپنی فوج کاسپہ سالار بنا دونگا۔ وہ درباری بولا :مجھے منظور ہے، بادشاہ نے دریافت کیا: تم اسے کیسے پھسلا ؤ گے؟ درباری نے جواباً کہا: اے بادشاہ تم جانتے ہو کہ اہل عرب عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ بات سارے رومی جانتے ہیں کہ میری فلانی بیٹی حسن و جمال میں یکتا ہے او ر پورے روم میں اس جیسی حسینہ کوئی اور نہیں۔ تم اس نوجوان کو میرے حوالے کر دو میں اسے اور اپنی اس بیٹی کو تنہائی میں یکجا کر دونگا اوروہ اسے پھسلانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بادشاہ نے اس درباری کو چالیس دن کی مدّت دی اور اس نوجوان کو اس کے حوالے کر دیا، وہ درباری اسے لیکر اپنی بیٹی کے پاس آیا اور سارا ماجرا اسے کہہ سنایا۔ لڑکی نے باپ کی بات پر عمل پیرا ہونے پر رضا مندی کا اظہار کیا، وہ نوجوان اس لڑکی کے ساتھ اس طرح رہنے لگا کہ دن کو روزہ رکھتا رات بھر نوافل میں مشغول رہتا۔ یہاں تک کہ مقررہ مدت ختم ہونے لگی تو بادشاہ نے اس لڑکی کے باپ سے نوجوان کا حال دریافت کیا۔ اس نے آ کر اپنی بیٹی سے پوچھا تو وہ کہنے لگی کہ میں اسے پھسلانے میں ناکام رہی یہ میری طرف مائل نہیں ہو رہا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دونوں بھائی اس شہر میں مارے گئے اور انکی یاد اسے ستاتی ہے لہٰذا بادشاہ سے مہلت میں اضافہ کروا لو اورہم دونوں کو کسی اور شہر میں پہنچا دو۔ درباری نے سارا ماجرا بادشاہ کو کہہ سنایا۔ بادشاہ نے مہلت میں اضافہ کر دیا اور ان دونوں کو دوسرے شہر پہنچانے کا حکم دے دیا۔ وہ نوجوان یہاں بھی اپنے معمول پر قائم رہا یعنی دن میں روزہ رکھتا اور رات بھر عبادت میں مصروف رہتا، یہا ں تک