Brailvi Books

حُسینی دُولھا
11 - 16
دیگ میں پھنکوا دونگا۔ پھر اس نے تیل کی تین دیگیں رکھ کر ان کے نیچے تین دن تک آگ جلانے کا حکم دیا۔ ہر دن ان تین بھائیوں کو ان دیگوں کے پاس لایا جاتا اور بادشاہ اپنی پیشکش ان کے سامنے رکھتا کہ اسلام چھوڑ دوتو میں اپنی بیٹیوں کی شادی بھی تم سے کردوں گا اور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دونگا۔ یہ تینوں بھائی ہر بار ایمان پر ثابت قدم رہے اور بادشاہ کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ تین دن کے بعد بادشاہ نے بڑے بھائی کو پکارا اور اپنا مطالبہ دُہرایا، اس مردِ مجاہد نے انکار کیا۔ بادشاہ نے دھمکی دی میں تجھے اس دیگ میں پھنکوا دونگا۔ لیکن اس نے پھربھی انکارہی کیا۔ آخر بادشاہ نے طیش میں آ کر اسے دیگ میں ڈالنے کا حکم دیا جیسے ہی اس نوجوان کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا، آناً فاناً اس کا سب گوشت پوست جل گیا اور اس کی ھڈیاں اوپر ظاہر ہوگئیں ، بادشاہ نے دوسرے بھائی کے ساتھ بھی اسی طرح کیا اور اسے بھی کھولتے تیل میں پھنکوا دیا۔ جب بادشاہ نے ا س قدر کڑے وقت میں بھی اسلام پرانکی استقامت اور ان ہوشربا مصائب پر صبر دیکھا تو نادم ہو کر اپنے آپ سے کہنے لگا: میں نے ان (مسلمانوں ) سے زِیادہ بہادُر کسی کونہ دیکھا اور یہ میں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ پھر اس نے چھوٹے بھائی کو لانے کا حکم دیا اور اسے اپنے قریب کر کے مختلف حیلے بہانوں سے ورغلانے لگالیکن وہ نوجوان اس کی چالبازی میں نہ آیا اور اس کے پائے ثبات میں ذرہ برابرلغز ش نہ آئی ، اتنے میں اس کا ایک درباری بولا: اے بادشاہ اگر میں اسے پُھسلا دوں تومجھے انعام میں کیا ملے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا: میں