بھائی آپس میں کہنے لگے : مسلمانوں پر ایک بڑی مصیبت نازل ہو گئی ہے ہم پر لازم ہے کہ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر جنگ میں کود پڑیں ، یہ آگے بڑھے اورجو مسلمان باقی بچے تھے ان سے کہنے لگے: تم ہمارے پیچھے ہو جاؤ اور ہمیں ان سے مقابلہ کرنے دو۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو ہم تمہارے لئے کافی ہوں گے۔پھر یہ رومی لشکر پر ٹوٹ پڑے اور رومیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ رومی بادشاہ ( جو ان تینوں کی بہادری کا منظر دیکھ رہا تھا) اپنے ایک جرنیل سے کہنے لگا:’’ جو ان میں سے کسی نوجوان کوگرفتار کر کے لائے گا میں اسے اپنا مقرب اور سپہ سالار بنا دوں گا۔‘‘ رومی لشکر نے یہ اعلان سن کر اپنی جانیں لڑا دیں اور آخر کار ان تینوں بھائیوں کو بغیر زخمی کئے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ رومی بادشاہ بولا: ان تینوں سے بڑھ کرکوئی فتح اور مال غنیمت نہیں ، پھر اس نے اپنے لشکر کو روانگی کا حکم دے دیااور ان تینوں بھائیوں کواپنے ساتھ اپنے دارالسلطنت قسطنطنیہ لے آیااور بولا: اگر تم اسلام ترک کر دو تو میں اپنی بیٹیوں کی شادی تم سے کر دوں گا ا ور آئندہ بادشاہت بھی تمہارے حوالے کر دوں گا۔ ان بھائیوں نے ایمان پرثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی یہ پیشکش ٹھکرادی اور سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پکارا اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے استغاثہ کیا(یعنی فریاد کی)بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پو چھا: یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ درباریوں نے جواب دیا:’’ یہ اپنے نبی کو پکار رہے ہیں ‘‘، بادشاہ نے ان بھائیوں سے کہا: اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تین دیگوں میں تیل خوب کڑکڑا کر تینوں کو ایک ایک