سب خوبیا ں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے تنہا مختلف اشیاء اورمخلوقات کو پیدا کیا ۔وہ جسم ، تقسیم اور ہیئت وصورت سے منزّہ ہے۔شکل ،مثل ،جگہ اور جہت سے بہت بلند ہے۔اعیان ،الوان اور کیفیات سے پاک ہے۔قدیم اسماء وصفات سے موصوف ہے ۔جواسے پکارتاہے اس کے قریب ہے مگرمسافت والی قربت سے نہیں۔ جواخلاص بھری دعاؤں کے ذریعے اس سے مناجات کرتا،اس کی دعاکوقبول فرمانے والاہے ۔وہ گناہوں کو معاف کرتا ، عیبوں کو چھپا تا، اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا، برائیوں سے درگزرفرماتاہے۔وہ دل کے پوشیدہ راز،چھپے افکاراوراوجھل امورکو جاننے والاہے ۔وہ ایساخبردارہے جس پر زمین وآسمان کی ذرہ بھرچیز مخفی نہیں۔ وہ ایساسننے والاہے کہ آوازوں کااختلاف اس کی سماعت سے پوشیدہ نہیں۔وہ ایسادیکھنے والاہے کہ اندھیروں میں ریت پر چیونٹی کے رینگنے کانشان اس سے اوجھل نہیں۔ وہ اکیلا ہے، ا س کا کوئی ثانی نہیں۔وہ یکتا،بے نیازاور بیٹوں اور بیٹیوں سے پاک ہے۔وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اورہرکوئی فناہوجائے گا،وہ ہی ان کی موت کافیصلہ فرماتا ہے۔
پاک ہے وہ جو زندوں کو مارنے اور مردوں کو زندہ کرنے والاہے ۔ انسان جس وقت دنیامیں شہوات کی لذت کے سبب دھوکے میں مبتلاء ہوتا اور غفلت کے سمندر میں غرق ہوتا ہے توایسے میں جب اس کے پاس موت آتی ہے تووہ اسے اپنی سختیوں کے جام گھونٹ گھونٹ پلاتی اوراس پراپنے مصائب کوڈال دیتی ہے ،اس وقت موت کی سختیاں اسے گھیرلیتی ہیں اوراپنی شدت سے اسے حسرتوں میں مبتلاکردیتی ہے۔جن لذتوں میں وہ کھویاہواتھا،موت اسے ان سے جداکردیتی ہے۔ماں باپ کورلاتی اوربیٹے بیٹیوں کویتیم کر دیتی ہے۔مرنے والے کے مصائب وآلام پر عبرتوں کاپہرہ بیٹھ جاتاہے۔لوگ اسے کندھوں پر اٹھاکر ویران قبرستان کی طرف لے چلتے ہیں۔اوروہ اپنی قبرمیں ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔اس تنہائی میں صرف اچھے برے اعمال اس کے ساتھ ہوں گے۔وہاں تقویٰ وعبادات،بھلائی وصدقات،نمازاوردعاؤں کے علاوہ کچھ کام نہ آئے گا۔توکیاعقلمندانسان ،مرنے والے کی پکڑوہلاکت سے اب بھی عبرت حاصل نہیں کرتا۔تحقیق پیسنے والی قبروں نے مُردے پرقبضہ کرلیا۔آقاوغلام کہاں گئے؟ توپھرانسان زندہ رہنے میں کس طرح طمع کرتاہے ۔
حالانکہ، دلائل ومعجزات کے مالک ،دوعالم کے داتا،مکی مدنی آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''بے شک موت کی سختیاں بہت ہیں۔''