| حکایتیں اور نصیحتیں |
العزّت میں یوں عرض گزار ہوئے: ''اے وہ ذات ! صفات جس کا احاطہ نہیں کرسکتیں! آفات کے ظلم سے ہماری حفاظت فرما۔''
اگرتم اُنہیں دیکھو گے توپاؤ گے کہ انتہائی محبت نے اُنہیں تراش دیا ہے اور سوزِشِ عشق نے اُنہیں کمزور و نڈھال کر دیا ہے مگر اُنہوں نے کسی تکلیف یا نقصان کی شکایت نہ کی۔ اُن کا محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ اُن سے سر گوشی کرتاہے اور سحری کی پُرکیف گھڑیوں میں اُن کا خیر مقدَم کرتا ہے۔ وہ رات کے گھوڑے پر سوار ہو کر (معرفت کے میدان میں) چل پڑتے ہیں اور صبح کو رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں۔وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن