Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
481 - 649
پہلے ہوئی تھی۔ کافی دیر اس پریہی حالت طاری رہی ۔ میں نے دل میں کہا کہ دیکھوں توسہی یہ فوت ہو گئی ہے یا زندہ ہے؟ لیکن پھر میں واپس پلٹ گیا اور ابھی نصف میل ہی چلا تھا کہ مجھے وادی میں کچھ عرب نظر آئے۔ دو لڑکے میری طرف دوڑتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا:''کیا آپ فلاں جنگل میں بالوں والے خیمہ سے ہوکر آئے ہو؟'' میں نے کہا، ''ہاں۔'' کہنے لگا،''کیا آپ نے بوڑھی عورت کے پاس قرآنِ کریم پڑھا؟''میں نے جواب دیا،''ہاں۔'' تو وہ بولا: ''ربّ ِ کعبہ کی قسم! وہ انتقال کر چکی ہے ۔'' میں ان لڑکوں کے ساتھ چل دیا اور خیمہ کے پاس آیا۔ لڑکی اندر داخل ہوئی اور بوڑھی عورت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو وہ وصا ل فرما چکی تھیں۔ میں اس لڑکے کے اندازے سے بہت حیران ہوا اور اس لڑکی سے پوچھا: ''یہ دو لڑکے کون ہیں؟''تواس نے بتایا: ''یہ دونوں قبیلہ جعفر کے معزّزین میں سے ہیں۔اور یہ مرنے والی ان کی بہن ہے۔ تیس سال سے اس نے کسی سے کلام نہیں کیا۔جب یہ اس وادی میں تھے تو یہ علیحدہ ہو گئی اور جنگل میں تنہا اپنا خیمہ بسا لیا اور تین دن میں صرف ایک بارکھانا کھاتی تھی ۔''

    اے میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کب تک تم فانی لذات میں کھوئے رہو گے اور باقی رہنے والی نیکیوں سے غافل رہو گے؟غنیمت کے اوقات میں جلدی کرو، لغزشوں کو سمجھو اور شبہات سے کنا رہ کشی اختیار کرو۔ کیا بار بار موت کا اعلان کرنے والوں نے تمہیں بیدار نہ کیا؟ کیا نیک مردوں اور عورتوں کے واقعات نے تمہیں جھنجوڑا نہیں؟ جب دن آتاہے تو وہ (نیک مرد اور عورتیں)لذّات(دنیا) کا بائیکاٹ کرتے ہوئے گزارتے ہیں اور جب رات آتی ہے تو محبت بھری آوازوں سے آہ و فغاں کرتے ہیں اور اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔یہی لوگ حقیقی سردار ہیں۔
برگد کے درخت سے کھجوریں اُتار لیں:
    حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن قرشی علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں: ایک بارمیں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا۔ہم حجاز کے راستے پر تین دن تک سفر کرتے رہے اورہمیں کھانے پینے کو کچھ نہ ملا۔ میں بھوک سے بے چین ہو گیا۔ میرے چہرے پر بھوک کے تاثرات دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیٹھ گئے۔ میں بھی پہلو میں بیٹھ گیا۔ اچانک ایک تازہ روٹی میری گود میں گری ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے اٹھایا اور مجھے فرمایا: ''کھاؤ۔'' میں نے آدھی روٹی کھائی اور خوب سیر ہو گیااور پھر سفر شروع کر دیا۔ دورانِ سفر ہم ایک قافلے کے پاس پہنچے۔ شیر نے ان کا راستہ روک رکھا تھا۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ الاعظم آگے بڑھے اور شیر سے فرمایا:''اے شیر!اگر ہمارے متعلق تجھے کوئی حکم ہے تو اس کو کر گزر، ورنہ یہاں سے چلا جا۔'' یہ سنتے ہی شیر پیچھے مڑ کر بھاگ گیا۔قافلے والے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض گزار ہو ئے: ''یا سیدی! ہمیں
Flag Counter