Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
476 - 649
وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: ''میرا حوض عدن سے عمانِ بلقاء تک پھیلا ہوا ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہدسے زیادہ میٹھا ہے اور اس کے پیالے آسمانی ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔جس نے اس سے ایک بار پی لیا اس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ اس پر لوگوں میں سب سے پہلے فقراء ومہاجرین حاضر ہوں گے۔'' امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون لوگ ہیں ؟''ارشاد فرمایا:''ان کے بال غبار آلود اور کپڑے مَیلے ہوتے ہیں، وہ عیش پسند عورتوں سے نکاح نہیں کرتے اور ان کے لئے دروازے نہیں کھولے جاتے۔''
 (المسندللامام احمدبن حنبل،حدیث ثوبان، الحدیث۲۲۴۳0، ج۸، ص۳۲۱)
    یہی لوگ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص بندے ہیں۔
ہم نے تیری خاطر شرابی کا دل دھو دیا:
    حضرت سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ایک شخص کے پاس سے گزرے جونشے کی حالت میں زمین پرپڑا ہوا تھا۔ اس کے منہ سے شراب بہہ رہی تھی۔ اس حالت میں بھی اس کے منہ سے اللہ، اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی نگاہ اوپر اٹھائی اور عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !یہ بندہ ایسی حالت میں تیرا ذکر کر رہا ہے جو تیرے شایانِ شان نہیں۔''پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پانی منگوایا، اس کا منہ دھویا اوراس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ جب اس کو ہوش آیا تو لوگوں نے اسے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تشریف لائے تھے۔ تجھے اس حالت میں دیکھا توتیرا منہ دھو کر چلے گئے۔ وہ سخت پشیمان و شرمسار ہوا اور اپنے نفس کو ملامت کرتے ہوئے کہنے لگا: ''اے نفس! تیری بربادی ہے،اگر تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے بھی حیا نہیں کریگا تو کس سے کریگا؟'' پھر اس نے نادم ہوکر اپنے  گناہوں سے توبہ کر لی۔ رات کوجب حضرت سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ الغنی محو ِ آرام ہوئے تو خواب میں کسی کی آواز سنی: ''اے سری ! تو نے ہماری رضا کے لئے اس شرابی کا منہ دھویا تو ہم نے تیرے لئے اس کا دل دھو دیا ہے۔'' جب حضرت سیِّدُنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ الغنی صبح بیدار ہوئے تو اس آدمی کے متعلق معلوم کیا۔ آخرکار اسے ایک مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے استفسار فرمایا: ''اے میرے بھائی! کیسے ہو؟''اس نے عرض کی،''یا سیدی !آپ میرا حال کیوں پوچھتے ہیں ؟حالانکہ اس کریم ذات جَلَّ جَلَالُہٗ نے آپ کو آگاہ فرما دیا ہے کہ اس نے آپ کی وجہ سے میرادل دھو یا اور میری حالت سدھار ی۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ''تمہیں کس نے بتایا؟'' جواب دیا:'' جس نے اپنے غیر سے میرا دل پاک کیا اور مجھ پر اپنے عفوو کرم اور رضامندی کی بارش برسائی ۔''
Flag Counter