Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
470 - 649
''ہاں! میرے محبوب کے صحابہ کا نورابھی باقی ہے۔'' عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اس بقیہ نورکو میری بقیہ انگلیوں میں رکھ دے۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانور درمیان والی انگلی میں، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نور بِنْصَرْ(یعنی درمیانی کے ساتھ والی انگلی) میں ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نور خِنْصَرْ (یعنی سب سے چھوٹی اُنگلی)میں اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نورانگوٹھے میں رکھ دیا۔ جب تک حضرت سیِّدُنا آدم صفی اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام جنت میں رہے تو یہ نور ان کی اُنگلیوں میں چمکتارہا۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام درخت کی آزمائش سے دوچار ہوئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نور کو دوبارہ واپس پشت میں رکھ دیا۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس ودیعت کئے گئے نور کے راز کی قدر و منزلت کی پہچان کرا ئی اور فرمایا: ''پاک صاف ہو کر تسبیح و تقدیس کرو پھر دونوں طاہرہو جاؤ اور اپنی اہلیہ حواء کا حقِّ زوجیت ادا کروکہ میں تم دونوں سے اپنے اس فیض آثار نور کا ظہور فرمانے والا ہوں۔'' پس آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حکمِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے مطابق عمل کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے حضرت سیِّدَتُنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں منتقل فرما دیا۔ پھر آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام اس نور کوحضرت سیِّدَتُنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی پیشانی میں سورج کی مانند دائرے کی صورت میں دیکھا کرتے۔
 (مصنّف عبد الرّزّاق، الجزء المفقود من الجزء الاوّل،کتاب الایمان،باب فی تخلیق نورمحمد ، الحدیث۱۸،ص۶۳۔ بالفاظٍ مختلفۃٍ)
سرکار علیہ الصلٰوۃ والسلام کاپاکیزہ نسب:(۱)
     جب حضرت سیِّدُنا شِیث علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام پیدا ہوئے تو نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی پیشانی میں منتقل کردیا گیا۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام بڑے ہوئے اور جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عہد وپیمان لیا کہ وہ اس خدائی راز کو کسی پاک باز بی بی میں ہی منتقل فرمائیں گے تاکہ یہ کسی پاک باز مرد تک ہی منتقل ہو۔'' اس کے بعد نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سیِّدُنا شیث علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے اَنُوش،اُن سے قَینَان، اُن سے مَہْلائیل، اُن سے یَرْد،اُن سے اَخنُوخ، اُن سےمَتُّوْشَلَخْ،اُن سے لَمْک،اُن سے حضرت سیِّدُنا نُوح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام، اُن سے سَام ، اُن سے اَرْفَخْشَذْ، اُن سے شالَخ،اُن سے عَیْبَر ،اُن سے
1۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاحِ اَفلاک کے سلسلۂ نسب کے متعلق حضرت علامہ سیِّدُنا یوسف بن اسماعیل نبہانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِی فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے معد بن عدنان تک کے سلسلۂ نسب پر امت کا اجماع ہے اور اس سے اوپر حضرت آدم علیہ السلام تک مذکور نسب قابلِ اعتماد نہیں(یعنی ناموں میں اختلاف ہے)۔''
    (وسائل الوصول الی شمائل الرسول، ص۴۸)
Flag Counter