''ہاں! میرے محبوب کے صحابہ کا نورابھی باقی ہے۔'' عرض کی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اس بقیہ نورکو میری بقیہ انگلیوں میں رکھ دے۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانور درمیان والی انگلی میں، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نور بِنْصَرْ(یعنی درمیانی کے ساتھ والی انگلی) میں ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نور خِنْصَرْ (یعنی سب سے چھوٹی اُنگلی)میں اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نورانگوٹھے میں رکھ دیا۔ جب تک حضرت سیِّدُنا آدم صفی اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام جنت میں رہے تو یہ نور ان کی اُنگلیوں میں چمکتارہا۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام درخت کی آزمائش سے دوچار ہوئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نور کو دوبارہ واپس پشت میں رکھ دیا۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس ودیعت کئے گئے نور کے راز کی قدر و منزلت کی پہچان کرا ئی اور فرمایا: ''پاک صاف ہو کر تسبیح و تقدیس کرو پھر دونوں طاہرہو جاؤ اور اپنی اہلیہ حواء کا حقِّ زوجیت ادا کروکہ میں تم دونوں سے اپنے اس فیض آثار نور کا ظہور فرمانے والا ہوں۔'' پس آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حکمِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے مطابق عمل کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے حضرت سیِّدَتُنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں منتقل فرما دیا۔ پھر آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام اس نور کوحضرت سیِّدَتُنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی پیشانی میں سورج کی مانند دائرے کی صورت میں دیکھا کرتے۔