Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
408 - 649
عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح کرناتھا۔ ان کا سکوت فکر ِ آخرت تھا۔ ان کا علم امت کے لئے شفا اور رحمت تھا۔ بلاشبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں بہت کچھ عطا فرمایا، ان کی تعریف و توصیف فرمائی اورانہیں اسلام کاامام اور لوگوں کا پیشوا بنایا۔

    منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی علمی معاملات اور ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں رات گزارتے، حقائق واسرار کی سرزمین میں گھومتے اور فکر ِ آخرت کے پاکیزہ باغات میں سیر وسیاحت کرتے۔ جب سحری کی ہلکی ہلکی ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے چین ہو جاتے، رنگ متغیر ہوجاتااور محبت کی آگ بھڑک اٹھتی اورایسی حالت طاری ہو جاتی جسے اربابِ احوال(یعنی اہلِ معرفت) کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا:''اگر سحری کے وقت تم پروہ باتیں ظاہر ہوں جو مجھ پر ہوتی ہیں تو دُنیا سے بے رغبت ہوجاؤاور آخرت کی تیاری پر کمر بستہ ہوجاؤ۔''
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
Flag Counter