| حکایتیں اور نصیحتیں |
کہ حضرت سیِّدُنا عمربن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ تھیں، دروازے کی دہلیز پر بیٹھ گئے۔ پھر لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ''ان مبارک چہروں کو مرحبا! یہ پیاری صورتیں نہ انسانوں کی ہیں،نہ جِنّوں کی ۔''راوی کا بیان ہے کہ''ہم نے گھرکے ایک کونے سے اس آیۂ کریمہ کی تلاوت سُنی :
(2) تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿83﴾
ترجمۂ کنزالایمان :یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساداور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (پ20،القصص:83)
پھرجب لوگ کمرے میں آئے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سفرِآخرت پر روانہ ہوچکے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرۂ اَقدَس قبلہ رو تھا اور آنکھیں اور منہ بند تھے۔(سیراعلام النبلاء،الرقم۶۶۲عمر بن عبد العزیز،ج۵،ص۵۹۶۔الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم۹۹۵عمر بن عبد العزیز،ج ۵ ، ص ۳۱۸)
حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''میں پسند نہیں کرتاکہ مجھ پرموت کی سختیوں کو آسان کر دیاجائے کیونکہ یہی تو وہ آخری چیز ہے جو بندۂ مؤمن کو اجر وثواب عطا کرتی ہے۔''
(حلیۃ الاولیاء،عمر بن عبد العزیز،الحدیث۷۳۵۵ ،ج۵،ص۳۵0، بتغیرٍ)
یہ بھی منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میں پسندنہیں کرتاکہ مجھ سے موت کی سختیاں آسان کر دی جائیں کیونکہ یہی تو وہ آخری چیز ہے جس کے ذریعے بندۂ مؤمن کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں۔''
(الزھد للامام احمد بن حنبل،اخبار عمر بن عبد العزیز،الحدیث۱۷۱۸،ص۳0۴،بتغیرٍ)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کفن کی قیمت:
منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمہ بن عبدالملک کو حکم فرمایا: ''میرے مال میں سے دو دینار لے کر میرے لئے کفن خرید لاؤ۔'' اُس نے عرض کی :''اے امیر المؤمنین! آپ جیسی قد آور شخصیت کا کفن دو دینار میں نہیں مل سکتا۔'' تو ارشاد فرمایا:''اے مسلمہ! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے راضی ہوا تو اس کم قیمت کفن کو اس سے بہتر سے بدل دے گااور اگر ناراض ہوا تو یہ آگ کا ایند ھن بن جائے گا۔''
منقول ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچے دھاگے سے بُنے ہوئے کپڑے کا کفن پہنایاگیا۔ ایک قول کے مطابق وہ یَمَنی چادر کا تھا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقبرہ سر زمینِ حُمص، دَیرِ سَمْعان میں ہے۔