| حکایتیں اور نصیحتیں |
نازل ہوئی؟'' اس نے کہا :''میرادل ہوش میں نہیں رہا۔'' میں نے کہا:'' یہ تو معمولی مصیبت ہے۔'' کہنے لگی: ''بھلا دل کی بے ہوشی اور محبوب کی جدائی سے بڑھ کربھی کوئی مصیبت ہوسکتی ہے؟''میں نے پوچھا:''تم اپنی آواز پست کیوں نہیں کرتی؟'' تو وہ جواباً پوچھنے لگی: ''بتایئے! یہ گھر کس کا ہے، آپ کا یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا؟''میں نے کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ۔'' کہنے لگی:''یہ حرم آپ کاہے یا خدا عَزَّوَجَلَّ کا؟'' میں نے کہا: ''اُسی کا ہے۔''اس نے پھر پوچھا:''اچھا! یہ بتایئے کہ کون ہمیں اِس کی زیارت کی توفیق عطا فرماتا ہے؟'' میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ۔'' تو وہ کہنے لگی:'' پھر مجھے چھو ڑدو کہ میں اس کی بارگاہ میں عاجزی وانکساری کروں جیسا کہ اس نے ہمیں اپنے حرم شریف میں حاضری کی توفیق عطا فرمائی اور اِس کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی۔'' پھر اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر لئے اور یوں دعاکی:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تیری میرے ساتھ محبت کا واسطہ ! میرے دل کو ہوش عطا فرما دے۔'' میں نے اسے کہا:''تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے؟'' اس نے جواب دیا:''وہ اس طرح کہ اس کی خاص عنایت نے ہمیشہ میری طرف سبقت کی کیونکہ اس نے میری تلاش میں لشکروں کو بھیجا،اس نے مال خرچ کئے اور اس کے بندوں نے جہاد کیا یہاں تک کہ مجھے شرک کے شہر سے نکال کر توحید کے شہر میں لا کھڑا کیا۔اور پھراس نے مجھے اپنے راستے کی معرفت عطا کی اورحسنِ توفیق کے ساتھ اپنی بارگاہ کی طرف رہنمائی کی، مجھے اس کا شعور بھی نہ تھا مگر اب میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔''
راہبوں کا قبول اسلام:
حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابومدین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بلند مرتبہ کے مالک اور ابدال میں سے تھے، کم وقت میں طویل مسافت طے کر لیتے، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر زباں زدِ عام تھا،اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ صاحب ِکرامات وتصرُّفات بزرگ تھے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اُندُلُس کی جامع مسجد خضر میں نمازِ فجر کے بعد بیان فرمایاکرتے تھے۔عیسائی راہبوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے پورے ملک کے گرجوں کی تعداد معلوم کی تو وہ سترتھے۔دس بڑے راہب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو آزمانے کے لئے بھیس بدل کرمسلمانوں کے لباس میں لوگوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھ گئے اورکسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیان شروع کرنے لگے توتھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئے، پھرایک درزی حاضر ہوا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے استفسار فرمایا:''اتنی دیر کیوں لگادی؟''اس نے عرض کی، ''حضور! آپ کے حکم پررات کو ٹوپیاں بناتے ہوئے دیر ہو گئی۔'' آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے ٹوپیاں لیں اور کھڑے ہو کر سب راہبوں کو پہنا دیں۔ لوگوں کو اس سے بڑا تعجب ہوالیکن معاملہ ابھی تک واضح نہ ہوا تھا۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بیان شروع کر دیا،جس میں یہ جملہ بھی فرمایا: ''اے فقراء !جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے توفیق کی ہوائیں سعادت مند دلوں پر چلتی ہیں تو وہ ہر روشنی کو بجھا دیتی ہیں۔'' پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سانس لیاجس سے مسجد کی تقریباً تیس(30) قندیلیں بجھ
گئیں۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سر جھکائے ہوئے خاموش ہو گئے اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ہیبت سے کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ کوئی بات یاحرکت کرے ۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا سر اٹھا کر فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، اے فقراء!جب عنایت کے انوار مردہ دلوں پر روشنی کرتے ہیں تو وہ راحت و سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر ظلمت ان کے لئے روشن ہو جاتی ہے۔'' پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سانس لیا تو تمام قندیلوں کی روشنی لوٹ آئی،اور وہ اتنی بے چینی سے جلِیں کہ قریب تھا کہ ایک دوسرے پر گر پڑتیں۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے آیتِ سجدہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جب سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیاتو راہب بھی رسوائی کے خوف سے لوگوں کے ساتھ سجدہ میں گر گئے ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سجدے میں یوں دعا کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تو اپنی مخلوق کی تدبیر اور اپنے بندوں کی مصلحت بہتر جانتاہے ،یہ راہب مسلمانوں کے لباس میں مسلمانوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں سجدہ کئے ہوئے ہیں،میں نے ان کے ظاہر کو تبدیل کر دیا، ان کے باطن کو تبدیل کرنے پر تیرے سوا کوئی قادر نہیں،میں نے انہیں تیرے دستر خوانِ کرم پربٹھا دیاہے تو ان کو کفر کی تاریکی سے نکال کر نورِ ایمان میں داخل فرمادے۔ راہبوں نے ابھی سر سجدے سے نہ اٹھائے تھے کہ ان سے کفر و شرک کی ناپاکی دور ہو گئی اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے،اور اپنے مقصود کو حاصل کر لیا۔پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے دستِ اقدس پر توبہ کر لی اور اپنے کئے پر ندامت سے آنسو بہانے لگے حتیٰ کہ ان کی چیخ و پکار کی آواز مسجد میں گونج اٹھی۔وہ دن گواہ ہے کہ تین شخص اسی اجتماع میں انتقال کر گئے۔ جب بادشاہ تک یہ بات پہنچی تو اس نے ان سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور انعام واکرام سے نوازا اور حضرتِ سیِّدُناشیخ ابومدین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بھی ان کے قبولِ اسلام سے بہت خوش ہوئے۔