مطاف(یعنی طواف کی جگہ) میں داخل ہوا۔ دورانِ طواف میں نے ایک لڑکی دیکھی جو بیت اللہ شریف کا طواف کر رہی تھی ۔ وہ کچھ اشعار پڑھ رہی تھی، جن کا مفہوم یہ ہے:''محبت الٰہی عَزَّوَجَلَّ نے پوشیدہ رہنے سے انکار کر دیا ۔ میں نے اسے بہت چھپایا مگر اس نے میرے پاس ڈیرے ڈال لئے۔ جب میرا عشق شدت اختیار کرتاہے تو محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے میرا دل دیوانہ ہو جاتا ہے۔ اگر میں اپنے محبوب سے قرب حاصل کرنے کا ارادہ کروں اور وہ مجھے وصال کی دولت سے سرشار کردے تو میرا دل مطمئن ہو جائے اور مجھ پر مدہوشی طاری ہوجائے یہاں تک کہ میں اس کے دیدار کی لذَّت اٹھاؤں اورخوشی سے جھوم جاؤں۔''
حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے سعادت مند لڑکی! کیا تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ نہیں کہ اس عظیم مقام پر ایسا کلام کر رہی ہو،تو وہ میری طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی: ''اے جنید!اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس سے محبت کرنے والے کے درمیان حائل نہ ہو۔'' پھراس نے چند اشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ ہے:
''اگر محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کا معاملہ نہ ہوتا تو آپ مجھے میٹھی نیند چھوڑ نے والا نہ دیکھتے ۔ محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بے وطن کر دیا ہے جیسے آپ میرے وطن کے متعلق خیال کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کا پختہ ارادہ کر لیا ہے پس اس کی محبت نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے۔''
پھر کہنے لگی: اے جنید! آپ کعبہ مشرَّفہ