Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
283 - 649
    ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نیک عورتوں کا ذکر نیک مردوں کے ساتھ کیا ہے۔ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی مختلف احوال ہیں، اُن میں بھی زُہد و تقویٰ اور خیر وبھلائی کی صفات مکمل طور پر پائی جاتی ہیں، اُن میں بھی اورادو وظائف کرنے والی اور جنگلات و کھنڈرات کی سیاحت کرنے والی عورتیں ہوتی ہیں۔ اور بعض کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کشف وغیرہ کی خصوصیات بھی عطا فرماتا ہے جیساکہ پہلے دور میں رابعہ عدویہ، شعوانہ ،ریحانہ ،اُمُّ الخیررحمۃاللہ تعالیٰ علیہن اور ان کے علاوہ معروف اور غیر معروف پاکباز عورتیں گزری ہیں۔
تذکرۂ حضرت سیِّدَتُنا رابِعہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا :
    حضرت سیِّدَتُنا رابِعہ عدویہ بصریہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہا کے بارے میں منقول ہے کہ آپ عشاء کی نماز پڑھ کر مکان کی چھت پر کھڑی ہو جاتیں اور اپنے دوپٹے اورچادر کو اچھی طرح اوڑھ کر بارگاہِ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ میں یوں عرض گزار ہوتیں: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ستارے چمک رہے ہیں ، سب کی آنکھیں سوئی ہوئی ہیں،بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں،ہر محب اپنے محبوب کے ساتھ تنہائی میں ہے اور میں تیری بارگاہ میں تنہا کھڑی ہوں۔''پھر آپ نماز ادا کرتی رہتیں، جب سحری کا وقت ہوتا اور فجر طلوع ہو جاتی تو بارگاہِ ربُّ العزَّت میں عرض کرتیں: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! یہ رات گزر گئی،دن خوب روشن ہو گیا۔کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ کیا میری رات کی عبادت قبول ہوئی تو مجھے مبارک باد دی جائے، یا اگر مردود ہوئی تو میری ڈھارس بندھائی جائے، تیری عزت کی قسم! جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا اور میری مدد کرتا رہے گا میں اسی عادت پر قائم رہوں گی، اور تیری عزت کی قسم! اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیتا پھر بھی میں اس سے دور نہ ہوتی کیونکہ میرے دل میں تیری محبت بس چکی ہے۔''

     پھرآپ چند اشعار پڑھتیں، جن کا مفہوم یہ ہے:
بقیہ ۔۔۔۔۔۔ہے۔اس میں چوتھے مرتبہ کا بیان ہے کہ وہ صدقِ نیات و صدقِ اقوال و افعال ہے۔ اس کے بعد پانچویں مرتبہ صبر کا بیان ہے کہ طاعتوں کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا۔ خواہ نفس پر کتنا ہی شاق اور گراں ہو۔ رضائے الٰہی کے لئے اختیار کیا جائے۔ اس کے بعد پھرچھٹے مرتبہ خشوع کا بیان ہے۔ جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب و جوارِح کے ساتھ متواضِع ہونا ہے۔ اس کے بعد ساتویں مرتبہ صدقہ کا بیان ہے۔ جواللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں بطریق فرض و نفل دینا ہے۔ پھر آٹھویں مرتبہ صوم کا بیان ہے۔ یہ بھی فرض و نفل دونوں کو شامل ہے۔ منقول ہے کہ'' جس نے ہر ہفتہ ایک درم صدقہ کیا وہ مُتَصَدِّ قین میں اور جس نے ہر مہینہ ایَّامِ بِیض کے تین روزے رکھے، وہ صائمین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نویں مرتبہ عفَّت کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھے اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے۔ سب سے آخر میں دسویں مرتبہ کثرتِ ذکر کا بیان ہے۔ ذکر میں تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر، قراء َتِ قرآن، علمِ دین کا پڑھنا، پڑھانا، نماز، وعظ، نصیحت، میلاد شریف، نعت شریف پڑھنا سب داخل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بندہ ذاکرین میں جب شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے۔''
Flag Counter