Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
264 - 649
خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے رونے والامدنی مُنا:
    حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن واسان علیہ رحمۃاللہ المنان فرماتے ہیں: ایک دن میں بصرہ کی گلیوں میں سے گزر رہاتھاکہ میں نے ایک بچے کو گریہ وزاری کرتے دیکھا اور پوچھا: ''اے بیٹے! تجھے کس چیزنے رُلایا؟'' اس نے جواب میں کہا: ''جہنم کے خوف نے۔''میں نے کہا : ''اے میرے بیٹے! تُو چھوٹا ہے، پھر بھی جہنم سے ڈرتا ہے۔'' وہ کہنے لگا: ''اے میرے محترم! میں نے اپنی امی جان کو دیکھا کہ وہ آگ جلاتے ہوئے پہلے چھوٹی لکڑیاں جلاتی ہیں، پھر بڑی۔ تو میں نے پوچھا:''اے امِّی جان! آپ پہلے چھوٹی لکڑیاں کیوں جلاتی ہیں اور بعد میں بڑی لکڑیاں کیوں؟'' تو انہوں نے جواب دیا:''اے میرے بچے! چھوٹی لکڑیاں ہی بڑی لکڑیو ں کو جلاتی ہیں۔'' بس اسی بات نے مجھے رُلا دیا۔'' میں نے اس لڑکے سے کہا: ''اے بیٹے! کیا تُومیری صحبت اختیار کریگا،تاکہ توایساعلم سیکھ جائے جو تجھے نفع دے؟''اس نے کہا:''ایک شرط پر اگر آپ وہ شرط قبول فرما لیں تو میں آپ کی صحبت اختیار کر لوں گا،اور آپ کی اطاعت بھی کروں گا۔''میں نے کہا:''وہ شرط کیا ہے؟''وہ بولا:''اگر مجھے بھوک لگے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھے کھانا کھلائیں گے، اور اگر میں پیاسا ہو جاؤں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھے سیراب کریں گے ، اگر مجھ سے خطاہوجائے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھے معاف فر ما دیں گے، اور اگر میں مر جاؤں تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مجھے زندہ کریں گے۔''میں نے اسے کہا:''اے میرے بیٹے!میں تو ان کاموں پر قادر نہیں۔'' تو اس نے کہا:''اے میرے محترم !پھر مجھے چھوڑ دیجئے، اس لئے کہ میں اس کے دروازے پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں جو یہ سارے کام کر سکتا ہو۔''
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر وقف کرکے واپس نہ لو:
    جب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی عمر پندرہ برس ہوئی تو اپنی ماں سے عرض کی :''اے امی جان ! مجھے راہ ِخدا عَزَّوَجَلَّ میں وقف فرما دیجئے ۔'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ کہنے لگیں: ''اے میرے بیٹے! بادشاہوں کو وہ چیز ہدیہ کی جاتی ہے، جو ان کے شایانِ شان ہو،اور تجھ میں ایسی کوئی خوبی نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان کے مطابق ہو ۔ ''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو حیا ء آئی اور ایک کمرے میں داخل ہو کر پانچ سال تک وہیں عبادت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی والدۂ محترمہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئیں اور دیکھا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عبادت میں مصروف ہیں اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر سعادت کے آثار نمایاں ہیں، تو انہوں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:''اے میرے بیٹے ! اب میں تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں وقف کرتی ہوں۔''چنانچہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے نکلے اور دس سال سفر میں رہے اور عبادت سے لذت حاصل کرتے رہے۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو اپنی والدۂ محترمہ کی زیارت کا اشتیاق ہوا تو گھر کی طرف چل پڑے۔ جب
Flag Counter