| حکایتیں اور نصیحتیں |
لگایاتو اس کی بینائی مکمل طور پر لوٹ آئی۔ بادشاہ نے کہا: ''میں تجھ پر اس سے بڑھ کر احسان نہیں کر سکتا کہ تیری شادی اپنی بیٹی سے کر دوں۔ پھر بادشاہ نے اس کی حاجت پوچھ کر اپنا سب سے پسندیدہ مال اسے دے دیا،وہ لڑکا اُس کے پاس کچھ عرصہ رہا ۔ پھر اسے اپنی ماں کی یاد ستائی تو اس نے بادشاہ سے جانے کی اجازت چاہی۔ بادشاہ نے کہا: ''ٹھیک ہے، اپنے ساتھ اپنی بیوی اور مال کو بھی لے جاؤ۔'' واپسی میں وہ لڑکا اسی شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے پوچھا: ''کیامجھے پہچانتے ہو؟''لڑکے نے نفی میں جواب دیاتَواُس نے کہا: ''میں وہی ہوں جس نے تجھے فلاں فلاں بات بتائی تھی ۔''پھر وہ لڑکا سواری سے اُتر آیااور جو کچھ اس کے پاس تھادو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ وہ شخص کہنے لگا: '' میرے حصے کی ایک چیز ابھی باقی ہے۔'' لڑکے نے پوچھا: ''وہ کیا؟'' تَو وہ بولا:''تیری بیوی،میں تجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ اپنا وعدہ پوراکر۔'' اس لڑکے نے کہا:''پھر ہم اس کی تقسیم کیسے کریں؟'' اس شخص نے کہا:''اس کو آرے سے چیر دو۔'' لڑ کے نے حامی بھر لی کہ میں ایسا ہی کرتا ہوں۔''جب اس نے آرا اپنی بیوی کے سر پر رکھاتَو وہ شخص کہنے لگا: ''رُک جاؤبے شک مجھے اللہ عزَّوَجَلَّ نے تیرے پاس بھیجا ہے ۔ اللہ عزَّوَجَلَّ اسی طرح تیری حفاظت فرمائے جیسے تُو نے اس سے کئے ہوئے عہد کو پورا کیا۔'' پھراس شخص نے لڑکے کاسارا مال اُسے واپس کر دیا۔
خدا ترس عورت کو ڈوبے ہوئے بچے کیسے ملے؟
حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ'' سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: ''بنی اسرائیل کی ایک عورت کا شوہر گھر سے باہر تھا۔ اس شخص کی ماں نے اپنی بہوکو جدائی پراُبھارا تو اس کی بیوی اسے ناپسند کرنے لگی، پھر اس کی ماں نے اپنے بیٹے کی جانب سے ایک جھوٹا طلاق نامہ اپنی بہو کو لکھا،اس عورت کے دو بیٹے تھے ۔جب وہ خط اسے ملاتو وہ اپنے بچوں کو لے کر والدین کے پاس چلی گئی۔وہاں کا ظالم بادشاہ مسکینوں کو کھاناکھلانا ناپسند کرتاتھا۔ ایک دن ایک مسکین اس عورت کے قریب سے گزرا، وہ روٹی پکا رہی تھی۔ مسکین نے سوال کیا: ''مجھے کچھ روٹی کھِلا دو۔'' عورت نے کہا: ''کیا تجھے معلوم نہیں کہ بادشاہ نے سختی کے ساتھ مساکین کو کھانا کھلانے سے منع کیا ہوا ہے ؟''اس نے کہا:''مجھے یہ بات معلوم ہے لیکن اگر تم مجھے کھانا نہ کھلاؤ گی تو میں ہلاک ہو جاؤں گا۔'' یہ سُن کر اس عورت کو ترس آگیااور اس نے دو روٹیاں مسکین کو دے دیں اور کہا: ''کسی کو پتا نہ چلے کہ میں نے تجھے کھانا دیا ہے۔'' وہ روٹیاں لے کر پہرے داروں کے پاس سے گزرا ۔جب انہوں نے اس کی تلاشی لی تو ا س سے روٹیاں برآمد ہوئیں۔ انہوں نے اس سے پوچھا: ''یہ تجھے کہاں سے ملیں؟'' اس نے کہا:'' فلاں عورت نے دی ہیں۔'' پہرے دار اس مسکین کو اس عورت کے پاس لے آئے اور پوچھا:''کیا اس مسکین کو یہ روٹیاں تُونے دی ہیں؟''اُس عورت نے جواب دیا:''جی ہاں۔''