Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
195 - 649
وہ امور عادتاً مخفی تھے۔یہ سب کرامات حضرت سیِّدُناخضرعلیہ السلام کے ساتھ خاص تھیں حالانکہ آپ علیہ  السلام نبی نہیں بلکہ ولی تھے۔ (۱)
گائے بول اٹھی:
    حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ''سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بیان فرمایا: ''ایک شخص گائے پر بوجھ اٹھائے اسے ہانکتا جارہا تھا کہ گائے اس کی طرف متوجہ ہو کر (بزبانِ فصیح) کہنے لگی: ''میں اس لئے پیدا نہیں کی گئی ،مجھے تو کھیتی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ ، باب فضائل ابی بکر الصدیق ، الحدیث ۲۳۸۸ ، ص۱0۹۸)
زمین سونابن گئی:
    حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ''عبادان شہر میں ایک حبشی فقیرتھاجو عام طورپرکھنڈرات میں رہتا تھا۔ ایک دن میں اپنی ضروریات وحاجات کی تلاش میں نکلا۔ جب اس نے مجھے دیکھاتو مسکرانے لگا اور اپنے ہا تھ سے زمین کی طرف اشارہ کیاتودیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین چمکدار سونا بن گئی۔ پھر مجھ سے کہنے لگا:''اپنی ضرورت پوری کرلو۔''میں نے اپنی ضرورت کے مطابق لے لیالیکن اس واقعہ نے مجھے خوفزدہ کردیا اس لئے میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔
وادی کے پتھرجواہرات بن گئے:
    حضرت سیِّدُنا ابو یزیدعلیہ رحمۃاللہ الوحید سے منقول ہے کہ'' میرے پاس میرے استاذ حضرت سیِّدُناابو علی سندی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے،ان کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی، انہوں نے اسے اُنڈیلا تو اس سے جواہر نمودار ہوئے،میں نے عرض کی: ''یہ موتی آپ کو کہا ں سے ملے؟''ارشادفرما یا:''میں یہاں ایک وادی میں اتراتو اچانک چراغ کی طرح ٹمٹماتے ہوئے یہ موتی دیکھے، میں نے ان کو اٹھا لیا۔''میں نے عرض کی: '' جب آپ وادی میں گئے تھے تو آپ کی کیفیت کیسی تھی۔'' انہوں نے ارشاد فرمایا: ''اس وقت میں اس حال میں نہیں تھا جس میں اِس وقت ہوں۔''
سب سے بڑی کرامت:
    حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: '' سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ تو اپنے برے اخلا ق کو اچھے اخلاق سے بدل ڈال۔''
1۔۔۔۔۔۔مجدّدِ اعظم ،امامِ اہلسنت ،حضرت سیدنا امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:''سیدنا خضر علیہ السلام جمہور کے نزدیک نبی ہیں۔'' (فتاوی رضویہ، ج ۲۶،ص ۴0۱)
Flag Counter