| حکایتیں اور نصیحتیں |
جب اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے ولی حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی پر اپنا پوشیدہ راز ظاہر کیا تو وہ محبت الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں دیوانہ وار پھرنے لگے۔ اورحضرتِ سیِّدُنا منصور حلاج علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا خالص جام پیا تو ان کی زباں پر
''اَنَا لَاَحَقُّ'
' جاری ہو گیا۔(۱) جب اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے محبت کا مزہ چکھ لیا تو ان پر شوقِ دیدار کی ہوائیں چلنے لگ گئیں، اور انہیں خبر دی گئی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پرنگاہِ کرم اور دِلکش تجلِّی فرمارہا ہے۔ یہ سن کر اُمید رکھنے والوں نے تاریک رات میں عاجزی وانکساری کرتے ہوئے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اورمُجرم نے عذر پیش کرتے ہوئے حقیر دل کے ساتھ اپنا سر جھکا لیا اورگنہگار پیشانیوں سے پکڑے جانے والے دن سے خوف زدہ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ سے حیا اور خوف کرتے ہوئے نگاہیں نیچے کر لیں، اپنے گناہوں پر گریہ وزاری کرنے لگا اوراپنے عیبوں پر رونے دھونے اور آہ وبکا کرنے میں راتیں کاٹ دیں۔
حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا امتحان:
منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی آزمائش کا وقت قریب آیاتوحضرتِ سیِّدُنا جبرائیل علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے حا ضر ہوکر عرض کی:'' اے ایوب (علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام)! عنقریب آپ کارب عَزَّوَجَلَّ آپ پر ایسی آزمائش اورہولناک معاملہ نازل فرمائے گا کہ جسے پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔'' توحضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے ارشاد فرمایا: ''اگر میں محبوب کے ساتھ تعلق میں ثابت قدم رہا تو ضرور صبرکروں گا یہاں تک کہ کہا جائے گا: '' یہ
1۔۔۔۔۔۔عوام میں مشہور ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسین بن منصور حلاّج علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے ''اَنَا الْحَقُ''(یعنی میں حق ہوں) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰحضرت، امام اہلسنت، مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:''حضرت سیدی حسین بن منصور حلاّج قدس سرہ، جن کو عوام ''منصور''کہتے ہیں، منصور اِن کے والد کانام تھا، اوران کااسم گرامی حسین۔(آپ )اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت ومعرِفت میں زائدتھیں۔ وہ آخرشب کوجنگل تشریف لے جاتیں اوریادِالٰہی( عَزَّوَجَلَّ)میں مصروف ہوتیں۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کونہ پایا، گھرمیں ہر جگہ تلاش کیا، پتانہ چلا، اُن کووسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہے۔ وہ اپنے وقت پراُٹھ کرچلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہولئے، دیکھتے رہے۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کاجام اُترا اوران کے دہن مبارک(یعنی مُنہ شریف)کے برابرآ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبرنہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔بے اختیارکہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں اﷲ ( عَزَّوَجَلَّ)کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑدو، انہوں نے ایک جُرعَہ (یعنی ایک گھونٹ) چھوڑ دیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہرجڑی بوٹی، ہردرودیوارسے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کازیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا، ''اَنَا لَاَحَقُّ'' بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزاوار(یعنی حق دار)ہوں۔'' لوگوں کے سننے میں آیا، ''اَنَا الْحَقُّ''(یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ)دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ(یعنی خدائی کادعوی) کفرہے۔ اور مسلمان ہوکر جوکفرکرے مرتدہے اورمرتد کی سزاقتل ہے۔''
(صحیح البخاری،کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم،ص۵۷۷ ،حدیث نمبر ۶۹۲۲پر ہے کہ)
رسول اللہ( عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) فرماتے ہیں:
''مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہ، فَاقْتُلُوْہ،
ترجمہ :جواپنادین بدل دے اسے قتل کرو۔''
(فتاوی رضویہ ،ج۲۶، ص۴00)