Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
148 - 649
کیا کرتا تھا، میں نے اس سے ایّامِ حج میں مسجدسے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو سعید علیہ رحمۃ اللہ المجیدکی عدم موجودگی کے متعلق پوچھا تو اس نے قسم کھائی کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے پانچوں نمازیں اسی مسجد میں ادا فرمائیں۔ تو میں نے جان لیاکہ یہ بزرگ، انسانوں کے سردار ابدال میں سے ہیں ۔''

    حضرتِ سیِّدُناعبدالصمد بغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں: ''میں بغداد سے یمن سمندر کے راستے سفر کرتاتھا اور ہرسال حج کیا کرتا۔ ایک سال منیٰ وعرفہ کے درمیان راستے میں خوبصورت، صاف سُتھرے لباس میں ملبوس ایک نوجوان کو دیکھاگویا اس کا چہرہ روشن چراغ تھا۔ وہ سَر کے نیچے پتھررکھ کر ریت پر لیٹاہواموت سے لڑ رہا تھا یعنی مرنے کے قریب تھا۔ میں نے آگے بڑھ کراسے سلام کیا اور پوچھا: ''کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟'' تواس نے جواب دیا: ''ہاں! آپ میرے پاس کھڑے رہیں یہاں تک کہ میں سانس پورے کرکے اپنے رب عَزَّوَّجَل سے جاملوں۔'' میں نے عرض کی:''آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟'' اس نے کہا : ''جب میں مر جاؤں تو مجھے دفن کر دینا اور میرے کندھے سے یہ تھیلی لے لینا، جب آپ یمن میں مقامِ صنعاء پر پہنچیں تو ''دارُالوزارۃ''کے متعلق پوچھنا۔ وہاں سے ایک بڑھیا اوراس کی بیٹیاں نکلیں گی، اُن کو یہ تھیلی دے کر کہنا کہ مسافر عثمان نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ پھر وہ نوجوان بے ہوش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب ہوش میں آیا تو یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کر رہا تھا :
 (1) ہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوۡنَ ﴿52﴾
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہے وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا تھااور رسولوں نے حق فرمایا۔( پ 23، یٰسۤ :52)

    پھر اس نے ایک چیخ ماری اور دنیا سے کُوچ کر گیا، میں نے اس کو غسل دیا اور کفن پہنایا، اس کا چہرہ نور سے دَمَک رہا تھا۔ میں نے لوگوں کے ساتھ مل کرنمازِ جنازہ پڑھی اور اُسے دفن کردیا۔ اس کے بعدتھیلی لی اور یمن پہنچ کر جب اس کے بتائے ہوئے گھر کے متعلق پوچھا تو ایک بوڑھی عورت اور اس کی بیٹیاں باہرآئیں، میں نے ان کو وہ تھیلی دی تو وہ اسے دیکھ کر رونے لگیں۔ بڑھیا بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ جب اُسے ہوش آیا تو مجھ سے پوچھنے لگی: ''اس تھیلی کا مالک کہاں ہے؟'' میں نے اس کے متعلق سب کچھ بتادیاتو وہ کہنے لگی: ''اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ میرا بیٹا عثمان (علیہ رحمۃ الرحمن) تھا اور یہ اس کی بہنیں ہیں، اس نے اپنے گھروالوں، عزیزوں اور خادموں کو چھوڑا اور چہرے پر نقاب کرکے نکل گیا،معلوم نہیں کہاں گیا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں میری اور میرے بیٹے کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔''پھر وہ رونے لگی ۔

    یااللہ عزَّوَجَلَّ! اگر توصرف عبادت گزاروں پر رحم فرمائے گا توعبادت میں کوتاہی کرنے والوں کاوالی کون ہو گا ؟ اگرتو
Flag Counter