کیا کرتا تھا، میں نے اس سے ایّامِ حج میں مسجدسے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو سعید علیہ رحمۃ اللہ المجیدکی عدم موجودگی کے متعلق پوچھا تو اس نے قسم کھائی کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے پانچوں نمازیں اسی مسجد میں ادا فرمائیں۔ تو میں نے جان لیاکہ یہ بزرگ، انسانوں کے سردار ابدال میں سے ہیں ۔''
حضرتِ سیِّدُناعبدالصمد بغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں: ''میں بغداد سے یمن سمندر کے راستے سفر کرتاتھا اور ہرسال حج کیا کرتا۔ ایک سال منیٰ وعرفہ کے درمیان راستے میں خوبصورت، صاف سُتھرے لباس میں ملبوس ایک نوجوان کو دیکھاگویا اس کا چہرہ روشن چراغ تھا۔ وہ سَر کے نیچے پتھررکھ کر ریت پر لیٹاہواموت سے لڑ رہا تھا یعنی مرنے کے قریب تھا۔ میں نے آگے بڑھ کراسے سلام کیا اور پوچھا: ''کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟'' تواس نے جواب دیا: ''ہاں! آپ میرے پاس کھڑے رہیں یہاں تک کہ میں سانس پورے کرکے اپنے رب عَزَّوَّجَل سے جاملوں۔'' میں نے عرض کی:''آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟'' اس نے کہا : ''جب میں مر جاؤں تو مجھے دفن کر دینا اور میرے کندھے سے یہ تھیلی لے لینا، جب آپ یمن میں مقامِ صنعاء پر پہنچیں تو ''دارُالوزارۃ''کے متعلق پوچھنا۔ وہاں سے ایک بڑھیا اوراس کی بیٹیاں نکلیں گی، اُن کو یہ تھیلی دے کر کہنا کہ مسافر عثمان نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ پھر وہ نوجوان بے ہوش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب ہوش میں آیا تو یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کر رہا تھا :