| حکایتیں اور نصیحتیں |
ہے تو یہ اس کے لئے دعا کرتاہے تو غنی گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور اس کا مال بھی صاف ہوجاتا ہے۔قاصد اس لئے کہ غنی جب فقیر پر اپنے مرحوم والدین یا اقرباء کی طرف سے صدقہ کر تاہے اور اس کا ثواب مردوں کو پہنچتاہے تو یوں فقیر اس کا قاصد بن جاتا ہے۔ نگہبان اس لئے کہ غنی جب صدقہ کرتاہے اور فقیراس کے لئے دعا کرتاہے تواُس کی دعاسے غنی کا مال محفوظ ہو جاتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ولی قبر سے غائب ہو گیا:
جب حضرتِ سیِّدُناثابت بنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہوا اور انہیں دفن کیا گیا تو اینٹیں برابر کرتے ہوئے ایک اینٹ گر گئی۔ حضرتِ سیِّدُناجعفربن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اینٹ نکالنے کے لئے قبر میں ہاتھ ڈالاتو کسی کو نہ پایا۔ میں بڑاحیران ہوالیکن کسی کو یہ بات نہ بتائی اور اسی سوچ میں حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر آ گیا۔ میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بیٹی سے تعزیت کی اور اس سے دریافت کیا: ''وہ کون سی دعایابات اکثرکہاکرتے تھے۔''تو ان کی بیٹی نے جواب دیا: ''میں انہیں اکثر روتے اور یہ آیتِ کریمہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھتی تھی:
''رَبِّ لَا تَذَرْنِیۡ فَرْدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الْوٰرِثِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۹﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑاور تو سب سے بہتر وارث۔''(پ۱۷، الانبیآء: ۸۹) تو میں نے کہا: یقینا اللہ عزَّوَجَلّ َنے حضرتِ سیِّدُنا ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دعاقبول فرما لی ہے۔
نوجوان بزرگ:
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پہاڑ کے دامن میں پریشان حال نوجوان دیکھا جس کے آنسورخساروں پربہہ رہے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا:''اللہ عزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، تم کون ہو؟''اس نے جواب دیا: ''میں اپنے آقاسے بھاگا ہوا ایک غلام ہوں۔'' تو میں نے اس سے کہا: ''واپس لوٹ جااور معافی مانگ لے۔''تواس نے کہا:''معذرت کے لئے کوئی دلیل ہونی چاہے ایک نافرمان کون سا عذر پیش کرے؟'' تومیں نے اسے مشورہ دیا:''ایسے شخص سے رابطہ قائم کر جواس کے ہاں تیری سفارش کرے۔'' تو وہ کہنے لگا: ''سب سفارش کرنے والے اس سے ڈرتے ہیں۔''اس کی یہ بات سن کرمیں نے اس سے پوچھا : ''وہ کون ہے؟'' تو اس نے بتایاکہ''وہ میرامولیٰ عزَّوَجَلَّ ہے جس نے بچپن میں مجھے پالالیکن جوان ہو کر میں نے اس کی نافرمانی کی۔مجھے اِس سے شرمندگی ہوتی ہے کہ میں اس سے خوبصورت شکل اور برے فعل سے ملوں گا۔'' پھر اس نے ایک چیخ ماری اوراس کے ساتھ ہی اس کی روح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔ اسی وقت ایک بوڑھی عورت کہیں سے آپہنچی اور کہنے لگی: ''اس غم اور مصیبت کے مارے ہوئے انسان کی مرنے پر کس نے مدد کی؟''میں نے اس سے عرض کی : '' اس کی تجہیز و تکفین پر میں آپ کی مدد کرو ں گا۔''تو وہ بولی: ''اس کو اپنے مارنے والے کے سامنے اسی حالت میں چھوڑدو،ممکن ہے کہ اس حالت میں دیکھ کر وہ اس پر رحم فرمادے ۔''