Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
139 - 649
یہ ان ہستیوں کا مقام ومرتبہ ہے۔ اے سُستی اور غفلت برتنے والو! تم نے کیا ذخیرہ کیا؟'' اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عظیم ہے:
لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان:ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہے ۔(۳۲، الصّٰفّٰت:۶۱)

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختاربِاذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تین چیزیں افضل ہیں :(۱)۔۔۔۔۔۔فقر(۲)۔۔۔۔۔۔علم اور(۳)۔۔۔۔۔۔زُہد۔''
فَقَر کیاہے؟
    حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: ''یارسولَ اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! فَقَرکیا ہے؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزَّوَجَلَّ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔''اس نے دوبارہ عرض کی:''یا رسولَ اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! فقرکیا ہے ؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عزَّوَجَلَّ کی عطاؤں میں سے ایک عطاء ہے۔'' اس نے تیسری بارپھرعرض کی: ''یا رسولَ اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! فقر کیا ہے؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' یہ وہ چیز ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے نبی، رسول اور معزَّز ومکرَّم بندے کے سوا کسی کو عطا نہیں فرماتا۔''
انبیاء کرام علیہم السلام اور فقراء کی تخلیق جنَّت کی مِٹی سے ہوئی:
    حضور سیِّدُ الانبیاءِ والمرسلین، جنابِ رحمۃٌ للعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:''فقیروہ ہے جس کی بھوک اور مرض کا لوگوں کو علم نہ ہو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو زمین کی مِٹی سے اور انبیا ء و فقراء کو جنت کی مٹی سے پیدا فرمایا۔ تو جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی امان چاہے اُسے چاہے کہ فقراء کی عزت کرے ۔''

    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت بیان ہے: ''جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اُن میں سے سات فقراء کے لئے اور ایک اغنیا ء کے لئے ہے۔ اور جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے چھ فقراء پر حرام اور اغنیا ء کے لئے حلال ہیں۔ اور ایک دروازہ فقراء کے لئے ہے ۔''

    حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضورسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ لوگ فقراء ہیں۔ کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ کو سب سے زیادہ محبوب انبیاء کرام ہیں اور اس نے انہیں فقر میں مبتلا فرمایا ۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں:''اے لوگو!تمہیں فاقہ و تنگدستی اس بات پر نہ ابھارے
Flag Counter