Brailvi Books

ہاتھوں ہاتھ پُھوپھی سے صُلح کر لی
23 - 24
الصَّدَقَۃِالصَّدَقَۃُ عَلٰی ذِی الرَّحِمِ الْکَاشِح۔ یعنی بے شک  افضل ترین صَدقہ وہ ہے جو دشمنی چھپانے والے رشتے دار پر کیا جائے۔  (مُسندِ اِمام احمدبن حنبل  ج۹ص۱۳۸حدیث۲۳۵۸۹)
رشتے دار سے جب سخت دُکھ پہنچا
	امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکواپنے خالہ زاد بھائی غریب ونادار ومہاجر اور بَدری صحابی حضرتِ سیِّدُنا مسطح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجن کا آپ خرچ اٹھاتے تھے ان سے سخت رنج پہنچا اور وہ یہ کہ اُنہوں نے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی پیاری بیٹی یعنی اُمُّ الْمُؤمِنین حضرتِ سیِّدَتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپر تہمت لگانے والوں کے ساتھ موافقت کی تھی، اِس پر آپ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے خرچ نہ دینے کی قسم کھائی۔ اِس پرپارہ18 سُوْرَۃُ النُّوْرکی آیت نمبر 22نازِل ہوئی۔
وہ آیتِ مبارَکہ یہ ہے:
وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤْتُوۡۤا اُولِی الْقُرْبٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَالْمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۪ۖ وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ترجَمۂ کنزالایمان:اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہاللہ تمہاری بخشش کرے اوراللہبخشنے والا مہربان ہے ۔
	جب یہ آیت سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے پڑھی تو حضرتِ سیِّدنا ابوبکر صدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: بے شک میری آرزو ہے کہاللہ(عَزَّ وَجَلَّ) میری مغفرت