سے جُدا ہونا چاہتا ہے، بے اِعتنائی (بے۔اع ۔ تے۔ نائی ۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اُس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات (یعنی لحاظ ورعایت) کرو۔
(رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حُسنِ ظن رکھنے کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ ساتوں مَدَنی پھول نہایت توجُّہ کے قابل ہیں، بالخصوص ساتویں مَدَنی پھول جس میں ’’ ادلے بدلے‘‘ کا ذِکر ہے اس کے بارے میں عرض ہے کہ آج کل عموماً یہی ’’ ادلا بَدلا ‘‘ہورہا ہے۔ ایک رشتے دار اگر اِس کو شادی کی دعوت دیتا ہے جبھی یہ اُس کو دیتا ہے اگر وہ نہ دے تو یہ بھی نہیں دیتا۔اگر اُس ایک نے اِس کو زیادہ افراد کی دعوت دی اور یہ اگر اُس کو کم افراد کی دعوت دے تو اِس کا ٹھیک ٹھاک نوٹس لیا جاتا، خوب تنقیدیں اورغیبتیں کی جاتی ہیں۔اِسی طرح جو رِشتے دار اِس کے یہاں کسی تقریب میں شرکت نہیں کرتا تویہ اُس کے یہاں ہونے والی تقریب کابائیکاٹ کر دیتاہے اوریوں فاصلے مزید بڑھائے جاتے ہیں۔حالانکہ کوئی ہمارے یہاںشریک نہ ہوا ہو تو اُس کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کے کئی پہلو نکل سکتے ہیں، مثلا وہ نہ آنے والا بیمار ہو گیا ہو گا،بھول گیا ہو گا، ضروری کام آپڑ اہو گا،یا کوئی سخت مجبوری ہو گی جس کی وضاحت اس کے لئے دشوار ہو گی وغیرہ۔ وہ اپنی غیر حاضری کا سبب بتائے یا نہ بتائے،ہمیں حسنِ ظن رکھ کر ثواب کمانا اور جنت میں جانے کا سامان کرتے رہنا چاہئے۔ چُنانچِہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ