آج تک جتنی اُجرت یا تنخواہ زائد حاصل کی ہے اُس کی بھی شَرْعی ترکیب کرنی ہو گی۔ چنانچِہ اِس مسئلے کا حل بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: ( جتنا کام کیا) اُس سے جو کچھ زیادہ مِلا (ہو وہ )مُسْتاجِر ( یعنی جس نے اُجرت پر رکھا اُسی) کو واپس ( لوٹا) دے، وہ نہ رہا ہو(تو) اُس کے وارِثوں کو دے، اُن کا بھی پتا نہ چلے (تو)مسلمان محتاج ( یعنی مسلمان فقیر یا مسکین ) پر تصدُّق (یعنی خیرات) کرے۔ اپنے صرف ( یعنی استعمال) میں لانا یا غیرِ َصدَقہ میں صرف ( خَرْچ) کرنا حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۱۹ ص ۴۰۷ )وقف کے ادارے میں بہرحال واپس ہی کرنی ہوگی اگر رقم یاد نہیں تو ظنِّ غالب کے حساب سے مالیت طے کرکے بیان کردہ حکمِ شَرْعی پر عمل کیجئے۔یاد رکھئے !پرایا مال ناجائز طریقے پر کھاڈالنا محشر میں پھنسا سکتا ہے چُنانچِہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دناللہ عَزَّوَجَلَّسے کوڑھی ہو کر ملے گا ۔ ‘‘(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۱ص۲۳۳حدیث۶۳۷)
نوٹ:یہ رسالہ’’ ملازمین کے لئے21 مدنی پھول‘‘ پہلی بار
۳ جُمادَی الُاولٰی ۱۴۲۷ھ(بمطابق مئی 2006 ء ) کومنظر عام
پر آیا اور کئی بار شائع کیا گیا پھر مزید ترمیم و اضافے کے ساتھ طبع ہوا۔
جُمادَی الُاولٰی ۱۴۳۴ ھ(بمطابق مارچ 2013 ء ) میں اس پر نظر ثانی کی۔