Brailvi Books

حلال طریقے سے کمانے کے 50 مدنی پھول
20 - 22
{49} عُرْف کے مطابِق جو چھٹّی ہوتی ہے اُس میں مُستاجِر(سیٹھ) اپنے ملازِم سے کام نہیں لے سکتا اگر جبراً لے گا تو گنہگار ہو گا ۔ہاں حُکْمیہ لہجے میں نہیں فَقَط درخواست کرنے پرملازِم خوش دلی سے کام کر دے یا چُھٹّی کے اوقات میں کئے جانے والے کام کی باہم الگ سے اُجرت طے کر لی جائے تو پھر جائز ہے ۔ یہ قاعدہ یاد رکھئے! جہاں دَلالۃً(یعنی علامت سے معلوم۔understood ) یا صَراحَۃً (یعنی  کھلَّم کھلا،ظاہِراً)اُجرت ثابت ہو وہاں طے کرنا واجب ہے۔ ایسے موقع پر طے کرنے کے بجائے اِس طرح کہدینا ، کام پر آ جائو دیکھ لیں گے ، جو مناسب ہو گا دیدیں گے، خوش کر دیں گے، خرچی ملے گی وغیرہ الفاظ قَطعاً ناکافی ہیں۔ بغیر طے کئے اُجرت لینا دینا گناہ ہے، طے شدہ سے زائد طلب کرنا بھی ممنوع ہے ۔یہ قاعِدہ رکشہ ٹیکسی کے ڈرائیوروں،ہر طرح کے کاریگروں وغیرہ اور ان سے کام کروانے والوں کو یاد رکھنا ضروری ہے ۔ البتّہ جہاں فریقین کو لگی بندھی (یعنی fix) اُجرت یا کرائے کا معلوم ہو وہاں طے کرنے کی حاجت نہیں نیز جہاں ایسا معامَلہ ہو کہ کام کروانے والے نے کہا: کچھ نہیں دوں گا ، اِس نے بھی کہدیا کچھ نہیں لوں گا اور پھر اپنی مرضی سے دے دیا تو اِس لین دین میں کوئی حَرَج نہیں۔
{50}  مزدوری یا ڈیوٹی میں سستی اورچُھٹّیوں کے باوجود جو مکمّل اُجرت یا تنخواہ لیتا رہا اور اب نادِم ہے تو اُس کیلئے صِرْف زَبانی توبہ کافی نہیں، توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ