رَحْمتِ اِلٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ پاک فرشتوں کے سامنے ان کا چرچا فرماتا ہے ۔ (1) عِلْمِ دِین کی مَـجْلِس توایسی پیاری مَـجْلِس ہے جس میں شامِل ہونے کو خود مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پسند فرمایاہے ، چُنَانْچِہ مَرْوِی ہے کہ ایک بارسرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَسْجِد میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی دو۲ مَجَالِس کے پاس سے گزرے تو اِرشَاد فرمایا : یہ دونوں بھلا ئی پر ہیں، مگر ایک مَـجْلِس دُوسْری سے بہتر ہے ، ایک مَـجْلِس کے لوگ اللہ پاک سے دُعا کر رہے ہیں، اس کی طرف راغِب ہیں، اللہ پاک چا ہے تو انہیں عطا کر دے چا ہے تو نہ کرے اور دوسری مَـجْلِس کے لوگ خود بھی فِقْہ اور عِلْم سیکھ رہے ہیں اور نہ جا ننے والوں کو سکھا بھی رہے ہیں، یہی اَفْضَل ہیں، بے شک میں مُعَلِّم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں، اتنا فر مانے کے بعدمیٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے والی مَـجْلِس میں تشریف فرما ہو گئے ۔ (2) مَشْہُور مُفسِّرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس رِوایَت کی شرح میں فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللہ!مَـجْلِسِ عِلْم کیسی بَا بَرَکَت ہے اب بھی سرکار عُلَما ہی میں تشریف فرما رہتے ہیں انہیں مَـجْلِسِ عِلْم میں ڈھونڈھو ۔ (3)
(5)نئے اسلامی بھائی مَدَنی ماحول کے قریب لانے کا ذَرِیْعَہ
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!تنظیمی طریقہ کار کے مُطابِق پابندی کے ساتھ ہفتہ وار مَدَنی
________________________________
1 - مسلم، کتاب الذکروالدعاء، باب فضل الاجتماع علی تلاوة…الخ، ص۱۰۳۹، حدیث : ۳۹-(۲۷۰۰)
2 - دارمی، باب فی فضل العلم والعالم، ص۱۱۷، حدیث : ۳۵۳ / ۲۸
3 - مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۲۲۰