حاصِل ہوتی ہے اور بِلا شُبہ یہ اجر و ثواب کا باعِث ہے ، جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا حسن بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : جوشخص عُلَما کی مَـحْفِل میں اَکْثَر حاضِر ہوتا ہے ، اس کی زبان کی رُکاوَٹ دُور ہو جاتی ہے ، ذِہْن کی اُلجھنیں کھل جاتی ہیں اور جوکچھ وہ حاصِل کرتا ہے وہ اس کیلئے باعِثِ مَسَرَّت ہوتا ہے ، اس کا عِلْم اسے فائدہ دیتا ہے ۔ (1)اور ہفتہ وار مَدَنی حلقے میں بیان وغیرہ سننے کے لئے جَمْع ہونے والوں کیلئے مُکَمَّل تَوَجُّہ ویکسوئی کے ساتھ سننا ضروری ہے تاکہ کَمَا حَقُّہٗ بیان سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ بیان وغیرہ سننے کے دوران بار بار اِدھر اُدھر دیکھتے رہنا، موبائل دیکھنے یا میسجز وغیرہ پڑھنے میں مَصْرُوف رہنا دُرُسْت ہے نہ بے تَوَجُّہی کے ساتھ قرآن و سنّت کی باتیں سننا مسلمانوں کی صِفَات میں سے ہے ، کیونکہ رسولِ اکرم، نورِ مجسّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے : بات کو بے تَوَجُّہی سے سننے والے اور جان بوجھ کر اپنے بُرے اَعمال پر اِصْرَار کرنے (یعنی ڈٹ جانے )والوں کیلئے ہَلاکَت ہے ۔ (2) حضرت علّامہ ابنِ حَجَر مَکّی شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِس حدیث کے تَحْت فرماتے ہیں : بات کو بے توجہی سے سننے سے مُراد وہ شخص ہے جو سنتا تو ہے لیکن یاد رکھتا ہے نہ اس پر عَمَل کر تا ہے ۔ (3)
احکامِ شَرْع پر مجھے دے دے عمل کا شوق پیکر خلوص کا بنا یاربِّ مصطفے ٰ(4)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - مکاشفة القلوب، ۸۷-باب فی فضل القرآن و فضل العلم و العلما، ص ۴۱۵
2 - مسند احمد، مسند عبدالله بن عمرو بن العاص، ۳ / ۶۸۴، حدیث : ۷۲۳۸
3 - الزواجر، کتاب الصید و الذبائح، الکبیرة الثانیة الی السادسة والستین بعد المائة، ۱ / ۴۰۹
4 - وسائِلِ بخشش (مرمّم)، ص۱۳۱