| غوثِ پاک کے حالات |
اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔''اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر،سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ اور اس کے دربار میں عاجزی سے معذرت کرتے ہوئے اپنی حاجت دکھاتے ہوئے عاجزی کااظہار کر، آنکھوں کو جھکاتے ہوئے اللہ عزوجل کی مخلوق کی طرف سے توجہ ہٹا کر اپنی خواہشات پر قابو پاتے ہوئے دنیا و آخرت میں اپنی عبادت کا بدلہ نہ چاہتے ہوئے اور بلند مقام کی خواہشات دل سے نکال کر رب العالمین زوجل کی عبادت و ریاضت کرنے کی کوشش کرو ۔(فتوح الغیب مع قلائدالجواہر،ص۴۴)
ایک مومن کوکیساہوناچاہیے؟
حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی دس سرہ النورانی کافرمان عالی شان ہے :''محبت الٰہی زوجل کا تقاضا ہے کہ تو اپنی نگاہوں کو اللہ عزوجل کی رحمت کی طرف لگا دے اور کسی کی طرف نگاہ نہ ہویوں کہ اندھوں کی مانند ہو جائے، جب تک تو غیر کی طرف دیکھتا رہے گا اللہ عزوجل کا فضل نہیں دیکھ پائے گا پس تو اپنے نفس کو مٹا کر اللہ عزوجلہی کی طرف متوجہ ہو جا، اس طرح تیرے دل کی آنکھ فضلِ عظیم کی جانب کھل جائے گی اور تو اِس کی روشنی اپنے سر کی آنکھوں سے محسوس کریگااورپھر تیرے اندر کا نور باہر کو بھی منور کردے گا، عطائے الٰہی عزوجل سے تُو راحت و سکون پائے گااور اگر تُو نے نفس پر ظلم کیا اور مخلوق کی طرف نگاہ کی تو پھراللہ عزوجل کی طرف سے تیری نگاہ بند ہو جائے گی اورتجھ سے فضلِ خداوندی رُک جائے گا۔''
تودنیا کی ہر چیز سے آنکھیں بند کرلے اور کسی چیز کی طرف نہ دیکھ جب تک تُو چیز کی طرف متوجہ رہے گاتَواللہ عزوجل کافضل اورقرب کی راہ تجھ پرنہیں کھلے گی،توحید، قضائے نفس ،محویت ذات کے ذریعے دوسرے راستے بند کرد ے توتیرے دل میں اللہ