ربِّ قدیرکی قدرت وطاقت دیکھ کر بے خود نہ ہو اور اس کے کمال لطف وکرم پر حیران ہو کر اس کے جمال و جلال کا عاشق نہ بنے اورحقیقت یہ ہے کہ جو اِن عجائب اور اپنے احوال میں غور وفکر نہ کرے تو وہ نِرَا حیوان اور نادان ہے کہ اس نے اپنے قیمتی گوہریعنی عقل کو ضائع وبرباد کر دیا۔ اسے بس اتنی ہی خبر ہے کہ جب بھوک لگتی ہے تو کھانا کھالیا ، جب غصہ آتا ہے تو کسی سے جھگڑ پڑا ۔ تو ایسا شخص جانوروں کی طرح ہے کہ گلشنِ معرفتِ الٰہی کی سیر سے محروم ہے۔ تمہیں خبردار وبیدار کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ تمہارے خلقت کے لاکھوں عجائبات میں سے چند عجائب ہیں ۔ اس کے علاوہ جانوروں میں بھی مچھر سے لے کر ہاتھی تک بے شمار عجائب ہیں جن کی شرح بہت طویل ہے ۔ (1)
زمین اور نباتات کے عجائبات:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی زمین اور اس کے اوپر اور نیچے موجود اشیاء ہیں ۔ اگر تم اپنے جسم کے علاوہ اور عجائب دیکھنا چاہتے ہو تو زمین پر غور کرو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُسے کس طرح تمہارا بچھونا بنایااوراُسے اتنی وسعت دی کہ تم اس کے کناروں تک نہیں پہنچ سکتے۔پہاڑوں کو زمین کے لیے میخ (کیل) بنا یا تاکہ زمین تمہارے قدموں کے نیچے ٹھہری رہے۔میٹھے پانی کے چشمے سخت پتھروں کے نیچے سے نکالے تاکہ پانی ساری زمین میں بتدریج پہنچے۔ اگر سخت پتھر اس پانی کو نہ روکتے اور پانی یکدم جوش مار کر نکل آتاتوزمین کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔موسمِ بہار کے بارے میں سوچو کہ پوری زمین ایک جمی ہوئی مٹی ہے۔ لیکن برسات ہوتے ہی کیسی رنگین و شاداب ہو جاتی ہے۔
ذرا ان سبزیوں کو دیکھو جو اس خاک سے اُگتی ہیں ، ان میں رنگ برنگے پھول اور کلیاں بھی شامل ہیں ، سب کے رنگ وخوبیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ پھر ذرا پھلوں میووں اور درختوں کی طرف دھیان دو ، ان کی خوبصورتی، ذائقے ، خوشبو اور فوائد میں غور وفکر کرو۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہزاروں سبزیاں جن کے نام و نشان تک تمہیں معلوم نہیں اُس نے اُگائے اور عجیب و غریب فوائد اُن میں رکھے۔ پھر اُن کے ذائقوں
________________________________
1 - کیمیائے سعادت،۲ / ۹۰۷ تا ۹۱۰ملخصا۔