ہیں ۔اسی طرح سینے اور پیٹ کے فوائد بھی بہت ہی عجیب وغریب ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے معدہ کوجوش مارتی دیگ کی طرح بنایا تاکہ کھانا اس میں پکے اور پھر اس پکے ہوئے کھانے سے خون بنے اور رگیں اس خون کو سات اعضاء تک پہنچائیں ۔پِتّہ اُس خون سے صَفْرا (زرد کڑواہٹ) علیحدہ کرتا ہے اورتِلّی سودا (خون کی تلچھٹ ) کو اپنے اندر لے لیتی ہے۔ گُردے خون سے پانی علیحدہ کر کے پانی کو مثانہ کی طرف بھیج دیتے ہیں ۔
اسی طرح رحمِ مادر ( بچہ دانی) اور اعضائے مخصوصہ اورآنتوں کے عجائب بھی بے شمار ہیں ۔اسی طرح انسان کے ظاہری و باطنی حواس اور قوتیں مثلاًدیکھنے اور سننے کی قوت اورعلم و عقل وغیرہ کے اَحوال بھی عجیب وغریب اور بے شمار ہیں ۔اے لوگو!تمہاراحال بھی عجیب ہے !اگر کوئی شخص دیوار پرتصویر بنا دے تو تم اُس کی مہارت پر متعجب ہو کر اس کی خوب تعریف کرتے ہو۔ ذرا خالقِ حقیقی کی قدرت کا نظارہ کرو کہ اس نے پانی کے ایک قطرے سے انسان کے ظاہر و باطن کے کیسے عجیب و غریب نقش و نگار بنائے ۔ پھر تم اس صَانِعِ حقیقی کی قدرت کو دیکھ کر متعجب کیوں نہیں ہوتے ، اس کے علم و قدرت کا کمال تمہیں بے خود کیوں نہیں کرتا؟ اس کی شفقت و رحمت پر حیران و متعجب کیوں نہیں ہوتے ؟
ذرا سوچوکہ جب تم ماں کے پیٹ میں غذا کے محتاج تھےاگر وہاں تمہیں خوراک نہ ملتی یااس میں کمی بیشی ہو جاتی تو تم وہیں ہلاک ہو جاتے۔ لہٰذاناف کے راستے سے تمہاری غذا کا اہتمام کیا ۔پھر جب تم ماں کے پیٹ سے باہر آئے تو ناف کا راستہ بند کرکے تمہارا منہ کھول دیا تاکہ ماں تمہیں بقدر حاجت غذا پہنچائے۔ تمہارا بدن اس وقت نازک وکمزور تھا، سخت چیزیں کھانے کی تم میں قوت نہ تھی لہٰذا تمہاری غذا ماں کے دودھ کو بنایااور ماں کے سینے میں پستان پیدا کرکے اُن کا سِرا نرم اور تمہارے منہ کے مطابق بنایا، پھر اس میں سوراخ پیدا کیے تاکہ دودھ حاصل کرنے میں تمہیں مشقت نہ ہو ۔ ماں کے سینے میں صفائی کا بہترین قدرتی نظام بنایاتاکہ سرخ خون سفید، پاکیزہ اور لطیف دودھ بن کرتم تک پہنچے۔ پھر ماں کے دل میں تمہاری ایسی محبت ڈالی کہ تمہارا ایک ساعت کے لیے بھوکا رہنا اسے بے قرارکر دیتا ہے ۔دودھ پینے کے ایام میں تمہیں دانتوں کی حاجت نہ تھی اس لیے دانت نہیں دیے تاکہ ماں کی چھاتی کو دانتوں سے تکلیف نہ پہنچے ۔پھر جب تم کھانا کھانے کے قابل ہوئے توتمہیں دانت عطا کیے تاکہ سخت غذاچبا سکو۔ وہ شخص کتنا احمق و اندھا ہے جو اس