Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
95 - 662
پیدائش کے عجائبات:
تم ذرا اپنی پیدائش پر غور کرو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تمہیں پانی کے ایک قطرے  ( نطفے ) سے پیدا کیا ۔اسے پہلے تمہارے باپ کی پشت،  پھر ماں کے بطن میں ٹھہرایا ،  ماں باپ میں شہوت رکھی ،  ماں کے رحم کو کھیتی اور باپ کے نطفے کو بیج بنایا۔رحمِ مادر میں نطفے کو پہلے خون کی شکل دی،  پھرگوشت کا لوتھڑا بنایا، پھر اس میں جان ڈالی،  پھر اس سے تمہارے اعضاء بنائے، سر کو گول بنایا،  دولمبے ہاتھ اور دوپاؤں بنائے،  انگلیاں بنائیں ،  انگلیوں میں پورے بنائے، اعضا کو ہڈیوں ،  رگوں ، پٹھوں ،  گوشت اور کھال سے بنایا۔ 
آنکھ کے عجائبات:
اپنی آنکھ کو دیکھو کہ حجم میں اَخروٹ سے بڑی نہیں ، لیکن اس میں سات پردے بنائے ، ہر پردے کی صفت علیحدہ علیحدہ بنائی۔اگران میں سے ایک بھی خراب ہو جائے تو آنکھ کی روشنی میں خلل واقع ہو جائے۔ اپنی آنکھ پر غور کرو،  اس کو سات طبقات سے پیدا کیا اورایسی شکل وصورت میں بنایا کہ اس سے بہتر مُتَصَوَّر نہیں ۔ سیاہ وسیدھی پلکیں بنائیں تاکہ گرد وغبار سے حفاظت ہو،  خوبصورتی بڑھے اور اشیاء کومسلسل دیکھنا ممکن ہو۔کتنی عجیب بات ہے کہ آسمان وزمین اپنی وُسْعَتُوں کے باوجود آنکھ کے چھوٹے سے تِل سے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ آسمان اتنی دوری کے باوجود نظر آ جاتا ہے۔ ان کے علاوہ آنکھوں کے بے شمار عجائب ہیں جن کی تفصیل کے ‏لیے دفتر درکار ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہڈیوں کے عجائبات:
پھر ذرا اپنی ہڈیوں پر غور کرو کیسی مضبوط ومستحکم ہیں ،  انہیں رقیق نطفے سے پیدا کیا گیا۔ان کا ہرہر ٹکڑا علیحدہ ساخت و مقدار میں ہے، کوئی گول توکوئی لمباچوڑا، کوئی جوف دار تو کوئی بھرا ہوا۔پھریہ ساری ہڈیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔ان کی تعدادوبناوٹ میں بے شمار حکمتیں ہیں ۔ریڑھ کی ہڈی کو تمہارے بدن کے ‏لیے ستون بناکراعضا کی بنیاد اس پر رکھی ۔اگریہ ستون ایک ہی ہڈی پر مشتمل ہوتا توکمر جھکانا ناممکن