Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
94 - 662
 ترین مخلوق انسان، الغرض اِن سب میں سے ہر ایک میں غور و فکر کامیدان بہت وسیع ہے۔یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کاریگری کے عجائبات ہیں ۔ ہم یہاں اِن میں کچھ عجائبات کی طرف اشارہ کریں گے ۔خدا ئے رحمٰن ورحیم نے قرآن ِکریم میں ارشاد فرمایا:
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ (۱۰۵)   (پ۱۳،  یوسف: ۱۰۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍۙ-  (پ۹،  الاعراف: ۱۸۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: کیاا نہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو چیز اللہ نے بنائی۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
اِنَّ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِ   وَ  اخْتِلَافِ  الَّیْلِ  وَ  النَّهَارِ  لَاٰیٰتٍ  لِّاُولِی  الْاَلْبَابِۚۙ (۱۹۰)   (پ۴،  آل عمران: ۱۹۰)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے ‏لیے۔
ان کے علاوہ اوربھی  کئی آیاتِ مبارکہ میں عجائب قدرت میں غور وفکر کا بیان ہے۔ (1) 
جسمِ انسانی کے عجائبات:
 (اے لوگو)  زمین پر تم سے زیادہ عجیب وغریب کوئی چیز نہیں مگر تم اپنے وجود سے بے خبر ہو۔ تمہیں نِد اکی جاتی ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو تاکہ رَبِّ قدیر کی عظمت وجلالت سے آشنائی ہو،  ارشاد باری تعالٰی ہے :
وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ (۲۰) وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (۲۱)   (پ:۲۶، الذاریات:۲۰،  ۲۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو اور خود تم میں  تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں ۔




________________________________
1 -   کیمیائے سعادت ،۲‏ / ۹۰۶ ملخصا۔