Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
93 - 662
تعریف پر خوش ہو،  اگر کوئی کسی عیب کی نشاندہی کرے تو اس سے بغض و کینہ رکھے،  اس سے انتقام لینے کے مواقع تلاش کرے۔تویہ پوشیدہ گندگیاں ہیں جوآدمی کے دین میں رُکاوٹ بن جاتی ہیں ۔توروزانہ غوروفکر کرناچاہیے تاکہ یہ برائیاں ختم ہوں ،  اس کے ‏لیے جلوت وخلوت یکساں ہو جائے اوراس کی نظر صرف اور صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف ہو۔  (1) 
 (2) مخلوق کے عجائبات میں غوروفکر:
زمین وآسمان کاذرہ ذرہ زبانِ حال سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پاکی،   اس کی قدرتِ کاملہ اور اس کے لا محدود علم کو بیان کر رہا ہے ۔ مخلوق کے عجائب بے شمار ہیں ،  اُن کی تفصیل ممکن نہیں ۔اگر سمندرروشنائی بن جائے ، تمام درخت قلم بن جائیں اور سب بندے زمانۂ دراز تک لکھتے رہیں تب بھی عجائبِ قدرت تمام نہیں ہوسکتے کہ ﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے:
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (۱۰۹)   (پ۱۶،  الکھف: ۱۰۹) 
 ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم فرمادواگر سمندر میرے ربّ کی باتوں کے ‏لیے سیاہی ہوتوضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے ربّ کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں ۔
مخلوق کی دو قسمیں ہیں  (۱)  وہ مخلوق جس کی ہمیں خبر نہیں لہٰذا اس میں غور و فکر نہیں کیا جاسکتا۔  (۲) وہ مخلوق جس کے بارے میں ہمیں علم ہے،  پھر یہ مخلوق بھی دو طرح کی ہے: ایک وہ جسے ہم دیکھ نہیں سکتے جیسے عرش و کرسی،  ملائکہ اور جنات وغیرہ اور دوسری وہ مخلوق جسے ہم دیکھ سکتے ہیں جیسے آسمان،  زمین چاند، سورج،  ستارے،  زمین اور اس پر موجود پہاڑ، جنگلات، سمندراور بستیاں ،  جواہرات اور دوسری معدنیات ،  طرح طرح کے نباتات،  خشکی وسمندر میں موجود طرح طرح کے حیوانات ، بادل،  بارش،  برف،  اولے ، بجلی،  کڑک،  کہکشاں اور ہوا میں موجود کئی طرح کی نشانیاں اورزمین وآسمان میں سب سے زیادہ حسین


________________________________
1 -   کیمیائے سعادت ،۲‏ / ۹۰۳ ملخصا۔