تعریف پر خوش ہو، اگر کوئی کسی عیب کی نشاندہی کرے تو اس سے بغض و کینہ رکھے، اس سے انتقام لینے کے مواقع تلاش کرے۔تویہ پوشیدہ گندگیاں ہیں جوآدمی کے دین میں رُکاوٹ بن جاتی ہیں ۔توروزانہ غوروفکر کرناچاہیے تاکہ یہ برائیاں ختم ہوں ، اس کے لیے جلوت وخلوت یکساں ہو جائے اوراس کی نظر صرف اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف ہو۔ (1)
(2) مخلوق کے عجائبات میں غوروفکر:
زمین وآسمان کاذرہ ذرہ زبانِ حال سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی، اس کی قدرتِ کاملہ اور اس کے لا محدود علم کو بیان کر رہا ہے ۔ مخلوق کے عجائب بے شمار ہیں ، اُن کی تفصیل ممکن نہیں ۔اگر سمندرروشنائی بن جائے ، تمام درخت قلم بن جائیں اور سب بندے زمانۂ دراز تک لکھتے رہیں تب بھی عجائبِ قدرت تمام نہیں ہوسکتے کہ ﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے:
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا (۱۰۹) (پ۱۶، الکھف: ۱۰۹)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم فرمادواگر سمندر میرے ربّ کی باتوں کے لیے سیاہی ہوتوضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے ربّ کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں ۔
مخلوق کی دو قسمیں ہیں (۱) وہ مخلوق جس کی ہمیں خبر نہیں لہٰذا اس میں غور و فکر نہیں کیا جاسکتا۔ (۲) وہ مخلوق جس کے بارے میں ہمیں علم ہے، پھر یہ مخلوق بھی دو طرح کی ہے: ایک وہ جسے ہم دیکھ نہیں سکتے جیسے عرش و کرسی، ملائکہ اور جنات وغیرہ اور دوسری وہ مخلوق جسے ہم دیکھ سکتے ہیں جیسے آسمان، زمین چاند، سورج، ستارے، زمین اور اس پر موجود پہاڑ، جنگلات، سمندراور بستیاں ، جواہرات اور دوسری معدنیات ، طرح طرح کے نباتات، خشکی وسمندر میں موجود طرح طرح کے حیوانات ، بادل، بارش، برف، اولے ، بجلی، کڑک، کہکشاں اور ہوا میں موجود کئی طرح کی نشانیاں اورزمین وآسمان میں سب سے زیادہ حسین
________________________________
1 - کیمیائے سعادت ،۲ / ۹۰۳ ملخصا۔