سے بچنے کی تدبیر کرے ۔ (1)
اسی طرح اعمالِ صالحہ اور ان کی فضیلت میں غور وفکر کرے جتنے ممکن ہوں بجا لائے ، زبان کے بارے میں سوچے کہ اسے ذکر الٰہی اور مسلمانوں کی راحت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لہٰذا میں اپنے ربّ کا ذکر کروں گا اور اچھی باتوں سے مسلمان بھائیوں کو راحت پہنچاؤں گا، اپنی آنکھ سے فلاں عالِمِ دین کوتعظیم کی نظر سے دیکھوں گا، اپنا مال مسلمانوں پر خرچ کروں گا اوراس معاملے میں ایثار سے کام لوں گا، روزانہ اس طرح غور وفکر کرے، ممکن ہے کسی لمحے ایسی سوچ نصیب ہوجو تمام عمر گناہوں سے باز رکھنے کا سبب بن جائے ۔ اسی لیے توایک ساعت کے غور وفکر کو سال بھر کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا ہے کیونکہ اُس کا فائدہ تمام عمر باقی رہتا ہے۔جب ظاہری طاعات ومعاصی میں غور وفکر کرچکے تو اپنے باطن کی طرف متوجہ ہو کہ اُس میں کون کون سی برائیاں اوراچھائیاں ہیں ؟ تاکہ برائیوں سے بچ سکے اور اچھائیوں کو اپنا سکے۔اصل مُہْلِکَات ( ہلاک کرنے والے ا عمال) دس ہیں : (۱) بخل (۲) تکبر (۳) عُجب (۴) رِیا (۵) حسد (۶) بدنظری (۷) کھانے کی حرص (۸) فضول گوئی (۹) مال سے محبت (۱۰) حُبِّ جاہ۔ اگر آدمی ان اُمور سے بچے تو یہ اسے کفایت کریں گے۔ مُنْجِیَات (نجات دلانے والے اعمال) بھی دس ہیں : (۱) گناہوں پر ندامت (۲) مصائب پر صبر (۳) تقدیرپرراضی رہنا (۴) شکرِنعمت (۵، ۶) خوف و رِجَا کی درمیانی حالت (۷) دنیا سے بے رغبتی (۸) اعمالِ صالحہ میں اخلاص (۹) مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ (۱۰) محبتِ الٰہی۔ ان صفات میں سے ہر صفت میں تَفَکُّرکی گنجائش ہے۔ انسان کو چاہیے کہ ایک رجسٹر میں یہ تمام صفات لکھ کر اُن کے حصول کے طریقوں میں غور و فکر کرے جو صفت حاصل ہو جائے اس پر نشان لگا دے پھر دوسری صفت میں مشغول ہو جائے۔ اسی طرح تمام صفات کو حاصل کرنے کی بھرپور سعی کرے ۔ اور صاحبِ علم کو تو غورو فکر کی بہت زیادہ حاجت ہے۔ مثلاً جوصاحبِ علم ظاہری برائیوں سے چھٹکارا پا چکا ہولیکن وہ اپنے علم پر غرور کرتاہو، نام ونمود کا طالب ہو، اپنی عبادات اور ظاہری حالت کو دکھاوے کی خاطر سدھارے، اپنی
________________________________
1 - کیمیائے سعادت،۲ / ۹۰۳ ملخصا۔