اصل پرہیزگاری:
منقول ہے کہ اصل پرہیزگاری یہ ہے کہ انسان فضول غوروفکر سے بچنے کا پختہ اِرادہ کر لے۔جب بھی فضول باتوں کی طرف ذہن جائے فوراً اپنے خیالات کو بامقصد باتوں کی جانب پھیر دے، یہ سب سے بڑا اور افضل جہاد ہے۔ (1)
اَبدالوں کی دس10 صفات:
ایک بزرگ نے فرمایا :عبادت کی تکمیل سچی نیت سے ہوتی ہے، عمل کی اصلاح عاجزی وانکساری سے ہوتی ہے اور ان دونوں کی تکمیل دنیا سے منہ موڑنے میں ہے اوریہ سب باتیں امور ِآخرت میں غورو فکر کرنے سے حاصل ہوتی ہیں اور غور و فکر کی تکمیل موت اور گناہوں کو ہروقت پیشِ نظر رکھنے سے ہوتی ہے ۔منقول ہے کہ دس10چیزیں اَبدالوں کی صفات میں سے ہیں : (1) کینۂ مسلم سے دل کی سلامتی (2) سخاوت (3) سچائی (4) عاجزی وانکساری (5) سختی میں صبر (6) خَلْوَت میں آہ و زاری (7) مخلوق سے خیر خواہی (8) مسلمانوں پر رحم کرنا (9) موت کے بارے میں غوروفکر (10) مختلف اشیاء سے عبرت حاصل کرنا۔ (2)
مُفْلِس تاجر کی مثال:
حضرتِ سَیِّدُنا مکحول شامیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جب بندہ سونے لگے تواسے چاہیے کہ اپنے دن بھر کے کاموں میں غور وفکر کرے ، اچھے اعمال پر شکرِالٰہی بجا لائےاور گناہوں پرفوراًتوبہ کرے۔اگر ایسانہ کرے گا تو اُس تاجر کی مانند ہوجائے گا جوبے حساب خرچ کر تا ہے پھر اسے پتا بھی نہیں چلتا اور وہ مفلس ہو جاتا ہے۔ ‘‘ (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - تنبیہ الغافلین ، باب التفکر، ص ۳۰۹۔
2 - تنبیہ الغافلین ، باب التفکر، ص ۳۰۹۔
3 - تنبیہ الغافلین ، باب التفکر، ص ۳۰۹۔